غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض دشمن کی جانب سے غزہ کی پٹی میں قتل و غارت اور حملوں میں اضافہ جس کا تازہ ترین واقعہ گذشتہ رات پولیس کی کچھ چوکیوں کو نشانہ بنانا اور متعدد پولیس اہلکاروں کی شہادت ہے جھوٹے بہانوں کے تحت ایک سنگین اور کھلی خلاف ورزی ہے۔
قاسم نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف خطرناک اضافہ حتمی طور پر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مجرم دشمن غزہ کی پٹی میں امن قائم کرنے کی تمام کوششوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور امن کونسل میں ہونے والی تمام باتوں کو نظر انداز کرنے پر بضد ہے۔
جمعہ کی صبح اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس اور پٹی کے وسط میں واقع البریج کیمپ میں فلسطینی پولیس کی دو چوکیوں کو نشانہ بنانے کے بعد چار شہری شہید ہو گئے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں اور دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ کارروائی اکتوبر سنہ 2025ء میں طے پانے والے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے سیاق و سباق میں ہوئی ہے۔
غاصب اسرائیلی ڈرون کی جانب سے پٹی کے جنوب میں خان یونس کے مغرب میں المسلخ چوک پر فلسطینی پولیس کی چوکی کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں تین شہید اور دیگر زخمی ہوئے۔
معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ شہداء میں خالد الزیان حسن حامد اور علی باسم ابو شمالہ شامل ہیں جبکہ زخمیوں اور لاشوں کو علاج اور ضروری طبی کارروائی کے لیے خان یونس کے ناصر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اسی طرح کے حملے میں البریج کیمپ میں فلسطینی پولیس کی چوکی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔
غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کی جانب سے گذشتہ جمعرات کو جاری کردہ یومیہ رپورٹ کے مطابق گیارہ اکتوبر سنہ 2025ء کو سیز فائر کے بعد سے غاصب دشمن کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 618 افراد شہید اور 1663 زخمی ہو چکے ہیں۔
