Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں مبینہ امن کونسل کے قیام کی اطلاعات

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی انتظامیہ نے ہفتے کی علی الصبح غزہ پٹی کے لیے امن کونسل کی تشکیل اور ایک اعلیٰ نمائندے کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ نے اپنے عملی کام کا آغاز کیا ہے جبکہ سیز فائر معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کو صرف دو دن ہی گزرے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے نکولے ملادی نوف کو غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندہ مقرر کیا ہے۔ وہ بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور سفارت کار ہیں جو اس سے قبل سنہ 2015ء سے 2020ء تک مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہ معلومات واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ برائے مشرقِ نزدیک پالیسیز کی ویب سائٹ پر شائع کی گئیں۔

نکولے ملادی نوف بلغاریہ کے وزیر خارجہ اور دیگرعہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں جبکہ وہ یورپی پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔ سنہ 2013ء میں اس وقت کے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے انہیں عراق کے لیے نمائندہ اور اقوام متحدہ کے امدادی مشن کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے اعلان کردہ ” پس بورڈ” میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ، امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے آریئے لائٹسٹون اور جوش گرین باؤم کو امن کونسل کا مشیر مقرر کیا ہے جبکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غزہ کے لیے ایک ایگزیکٹو کونسل تشکیل دی جا رہی ہے تاکہ اعلیٰ نمائندے کے دفتر اور فلسطینی قومی کمیٹی برائے غزہ کو معاونت فراہم کی جا سکے۔

اسی طرح وائٹ ہاؤس نے جنرل جسپر جیفرز کو بین الاقوامی استحکام فورس کا کمانڈر مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

امریکی انتظامیہ نے غزہ کے لیے ایک ایگزیکٹو کونسل کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے جس کا مقصد مؤثر حکمرانی کو سہارا دینا اور غزہ کے عوام کو ایسی خدمات فراہم کرنا بتایا گیا ہے جو امن استحکام اور خوشحالی کو فروغ دیں۔ اس کونسل میں اسٹیو وٹکوف ، جارڈ کوشنر ، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور علی الثوادی اور جنرل حسن رشاد اور ٹونی بلیئر اور مارک روان اور وزیر ریِم الہاشمی اور نکولے ملادی نوف اور یاکیر جابای اور سیگرڈ کاگ شامل ہیں۔

امریکی منصوبے کے مطابق جس کا انکشاف گذشتہ برس کے آخر میں کیا گیا تھا اور جس کے نتیجے میں غزہ میں ایک کمزور سیز فائر طے پایا تھا اس مجلس کی سربراہی ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

اس سے قبل جمعہ کے روز فلسطینی قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کے سربراہ علی شعث نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ کمیٹی نے قاہرہ سے باضابطہ طور پر اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے اور جلد غزہ پٹی منتقل ہو کر فلسطینی عوام کے لیے ہنگامی امدادی منصوبے پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔

دوسری جانب قابض اسرائیل کی جانب سے تاخیری حربوں کے بعد اسٹیو وٹکوف نے بدھ کے روز معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا جس میں اسلحہ سے دستبرداری اور ٹیکنوکریٹ حکومت کی تشکیل اور تعمیر نو کے عمل کا آغاز شامل ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan