غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے مسلسل 122 ویں روز جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے ہوئے غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں گولہ باری اور عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں پانچ شہری شہید ہو گئے۔
طبی ذرائع کے مطابق شمالی غزہ پٹی کے قصبہ جبالیا میں واقع بے گھر افراد کے حلاوہ کیمپ پر قابض اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان جام شہادت نوش کر گیا۔
طبی ذرائع نے مزید بتایا کہ جنوبی غزہ پٹی کے شہر خان یونس میں شارع 5 پر قابض افواج کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہری یوسف ناصر الریفی شہید ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض دشمن کے طیاروں نے غزہ پٹی کے وسطی علاقے میں المصدر گاؤں کے داخلی راستے کے قریب برقی بائیسکل پر سوار دو شہریوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں عاصم ابو ہولی اور احمد عبد محمود ابو دان شہید ہو گئے۔
اسی طرح غزہ پٹی کے وسطی علاقے میں ہی قابض دشمن کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی خاتون عبیر حمدان کچھ ہی دیر بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئیں۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض دشمن کے طیاروں نے آج صبح جنوبی غزہ پٹی کے شہر رفح پر 5 فضائی حملے کیے۔
ایک طبی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ آج صبح غزہ شہر کے جنوب مشرقی محلے زیتون میں قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے دو شہری زخمی ہوئے۔
مقامی ذریعے کے مطابق قابض دشمن کی توپ خانے نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی اور جنوبی پٹی کے شہر خان یونس کے مشرق میں دو عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کی سفاکیت دکھائی جبکہ شہر کے وسط میں بھی فائرنگ کی گئی۔
مزید برآں قابض افواج نے غزہ شہر کے مشرق میں بھی عمارتیں گرانے کی کارروائی کی جبکہ قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے پٹی کے جنوبی سمندر میں شدید فائرنگ کی۔
گذشتہ روز پیر کو بھی 6 شہری شہید ہوئے تھے جن میں سے 4 افراد غزہ شہر کے مغرب میں سویدی النصر کے قریب ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر اسرائیلی بمباری کا شکار ہوئے۔
جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد سے قابض افواج نے اپنی متواتر خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک 194 بچوں اور 83 خواتین سمیت 612 فلسطینیوں کو قتل کیا ہے جبکہ 1541 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
سنہ سات اکتوبر 2023ء سے جاری نسل کشی کی اس ہولناک جنگ میں اب تک قابض افواج 72 ہزار سے زائد شہریوں کو شہید اور تقریباً 172 ہزار کو زخمی کر چکی ہیں جبکہ 8 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کا 90 فیصد حصہ وسیع پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے جس کی تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ اقوام متحدہ نے تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔
