Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں صحت کی سہولیات تباہ، مریضوں کی بیرون ملک منتقلی پر پابندی

رفح – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے رفح کراسنگ کے راستے غزہ پٹی سے بیرون ملک علاج کے لیے جانے والے مریضوں کے تیسرے دستے کی روانگی کا اجازت نامہ (کوارڈینیشن) منسوخ کر دیا ہے۔ یہ ظالمانہ اقدام ان مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے اور ان کی تکلیفوں میں اضافے کی ایک نئی کڑی ہے، جو نقل و حرکت پر قابض دشمن کی سخت ترین پابندیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔

فلسطینی ہلال احمر (ریڈ کریسنٹ) کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ انہیں آج رفح کراسنگ کے ذریعے زخمیوں اور مریضوں کی روانگی کے لیے طے شدہ عمل کی منسوخی کے بارے میں قابض اسرائیل کی جانب سے مطلع کر دیا گیا ہے۔

اسی دوران آج بدھ کی صبح 40 فلسطینی طویل انتظار کے بعد رفح کراسنگ کے راستے غزہ واپس پہنچے ہیں۔ ان کی واپسی کے دوران قابض اسرائیلی فوج نے کراسنگ پر شدید ترین رکاوٹیں کھڑی کیں، جن میں طویل تلاشی، گھنٹوں تفتیش اور مسافروں کی نقل و حرکت پر براہ راست دباؤ شامل تھا۔ ان ہتھکنڈوں کے باعث مسافروں کو شدید انسانی اذیت اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

قابض اسرائیل کی سخت شرائط کے تحت رواں ماہ 2 فروری سے رفح کراسنگ کو تقریباً دو سال بعد پہلی بار کھولا گیا تھا۔ طے شدہ مفاہمت کے مطابق پہلے دن 50 فلسطینیوں کو غزہ داخل ہونا تھا اور 50 مریضوں کو دو دو تیمارداروں کے ہمراہ علاج کے لیے مصر روانہ ہونا تھا، لیکن عملی طور پر اعداد و شمار انتہائی مایوس کن رہے۔ صرف 12 فلسطینی غزہ داخل ہو سکے جبکہ محض 8 مریضوں کو باہر جانے کی اجازت مل سکی۔

دوسری جانب حماس نے رفح کراسنگ پر واپسی کرنے والے فلسطینیوں کے ساتھ برتے جانے والے سلوک کو “جرمِ تذلیل” قرار دیا ہے۔ حماس نے ثالثوں اور ضامن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان غیر انسانی ممارست کو رکوانے کے لیے فوری مداخلت کریں۔ حماس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ پر جنگ بندی (سیز فائر) کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے باوجود قابض دشمن امدادی سامان کی آمد میں شدید رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور صورتحال میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ غزہ میں انسانی حالات مزید ابتر ہو گئے ہیں کیونکہ علاقہ نئے موسمی تغیرات اور سرد لہر کی لپیٹ میں ہے، جبکہ خیموں میں مقیم مہاجرین زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ایندھن اور گیس کی بندش یا انتہائی معمولی مقدار میں فراہمی انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

مریضوں کی حالتِ زار کے حوالے سے ہلال احمر نے بتایا کہ منگل کے روز قابض حکام نے 45 مریضوں اور 90 تیمارداروں میں سے 29 مریضوں اور 50 تیمارداروں کو رفح کراسنگ پار کرنے سے روک دیا، حالانکہ ان کے علاج کے انتظامات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا تھا۔

ہلال احمر کے ڈائریکٹر میڈیا رائد النمس نے طبی بنیادوں پر مریضوں کے انخلاء میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صحت کے مطابق تقریباً 20 ہزار ایسے مریض موجود ہیں جن کا علاج غزہ کے تباہ حال ہسپتالوں میں ممکن نہیں اور انہیں فوری طور پر بیرون ملک منتقلی کی ضرورت ہے۔

ادھر عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں 18 ہزار 500 سے زائد مریضوں کو ایسی خصوصی طبی امداد کی ضرورت ہے جو مقامی طور پر دستیاب نہیں ہے۔ عالمی ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے دو سال سے زائد جاری رہنے والی اسرائیلی سفاکیت اور حملوں کے بعد غزہ میں طبی انفراسٹرکچر کی بحالی اور تعمیرِ نو کو ناگزیر قرار دیا تاکہ طبی انخلاء پر جبری انحصار کو کم کیا جا سکے۔

عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غوتیریش نے مطالبہ کیا ہے کہ رفح کراسنگ سمیت تمام راستوں سے غزہ کو انسانی امداد کی بڑے پیمانے پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی کے سالانہ اجلاس میں انہوں نے زور دیا کہ غزہ کا کوئی بھی پائیدار حل بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہیے جس کے نتیجے میں ایک متحد، جائز اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فلسطینی حکومت قائم ہو۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan