غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کی مظلوم مٹی سے اٹھنے والی سچائی کی ہر لہر کو خاموش کرنے کے درپے قابض اسرائیل کی سفاکیت نے ایک اور قلم کار کا لہو بہا دیا۔ الجزیرہ کے نامہ نگار، ہمت و جرات کے استعارے محمد سمیر وشاح کی ٹارگٹ کلنگ نے جہاں فلسطینیوں کے سینوں میں غم و غصے کی آگ بھڑکا دی ہے، وہاں عالمی صحافتی حلقوں اور فلسطینی دھڑوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس لرزہ خیز شہادت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ غاصب دشمن کے پاس فلسطینیوں کی نسل کشی کے حقائق چھپانے کے لیے اب صرف معصوم صحافیوں کا خون بہانے کا ہی راستہ بچا ہے۔
صحافت کا سفاکانہ قتلِ عام
فلسطینی صحافیوں کی یونین نے اپنے جری ساتھی محمد سمیر وشاح کی شہادت پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ محمد وشاح اس وقت جامِ شہادت نوش کر گئے جب غزہ شہر کے قلب میں ان کی گاڑی کو دانستہ طور پر میزائل کا نشانہ بنایا گیا۔ یونین نے بدھ 8 اپریل کو جاری کردہ اپنے جذباتی بیان میں کہا کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ صحافت اور سچائی کو سرعام سولی پر چڑھانے کے مترادف ہے۔ یہ قابض اسرائیل کی سفاکیت کے اس سیاہ ترین باب کا حصہ ہے جہاں حق کی ہر آواز کو گولی اور بارود سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دشمن کا یہ وار دراصل اس کے اس خوف کی عکاسی کرتا ہے جو اسے فلسطینی بیانیے اور ایک نہتے صحافی کے کیمرے سے لگتا ہے۔ یہ فلسطینیوں کے پاکیزہ نصب العین کو مٹانے کی ایک ناکام اور یتیم کوشش ہے۔ یونین کے مطابق، محمد وشاح کی قربانی کے بعد قابض دشمن کے ہاتھوں شہید ہونے والے صحافیوں کا خونیں ہندسہ 262 تک جا پہنچا ہے، جو میڈیا کے خلاف صہیونی ریاست کی منظم دہشت گردی کا بولتا ہوا ثبوت ہے۔
آوازِ حق کو دبانے کی مذموم سازش
غزہ میں قائم صحافیوں کے معتبر ادارے “کتلہ الصحفی الفلسطینی” نے شہید محمد وشاح کی عظیم المرتبت خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان جری فرزندوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر غزہ کے محصورین کی سسکیوں اور آہوں کو عالمی ضمیر تک پہنچایا۔ ادارے نے نوحہ کناں ہوتے ہوئے کہا کہ وشاح کی شہادت کوئی اتفاقی واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس زنجیر کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعے صحافیوں کو ڈرا دھمکا کر اور پھر موت کے گھاٹ اتار کر حقائق کی زبان بندی کی جا رہی ہے۔
عالمی ضمیر کے نام ایک دہائی
انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی میڈیا تنظیموں نے بین الاقوامی برادری سے فریاد کی ہے کہ صحافیوں کے اس منظم قتلِ عام پر اپنی مجرمانہ خاموشی توڑے۔ انہوں نے پکارا ہے کہ اگر آج ان سفاک قاتلوں کا ہاتھ نہ روکا گیا تو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے تمام دعوے غزہ کے ملبے تلے دب کر رہ جائیں گے۔ یہ حملہ ان تمام بین الاقوامی میثاقوں کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے جو جنگی حالات میں صحافیوں کے تحفظ کی قسمیں کھاتے ہیں۔
مقدس لہو سے سچائی کی آبیاری
فلسطین میں اسلامی جہاد موومنٹ کے میڈیا آفس نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ قابض صہیونی ریاست کی بربریت تمام حدیں پار کر چکی ہے۔ الجزیرہ مباشر کے نمائندے کو ان کی گاڑی کے اندر نشانہ بنانا اس بات کی گواہی ہے کہ دشمن اب کھلم کھلا صحافیوں کی نسل کشی پر اتر آیا ہے۔ بدھ 8 اپریل سنہ 2026ء کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ لبنانی صحافیوں پر ہونے والے حملوں کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ایک ہی ہے: “سچائی کا گلا گھونٹنا”۔ بیان کے آخر میں دعا کی گئی کہ شہدائے حق کا یہ مقدس لہو وہ نور بنے جو ظلم کے اندھیروں کو چاک کر کے رکھ دے۔
عالمی قوانین کی پامالی اور صہیونی جنون
لجان المقاومہ (مزاحمتی کمیٹیز) نے محمد سمیر وشاح کی شہادت پر قابض اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غزہ کے مغرب میں کی جانے والی یہ بمباری عالمی قوانین کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ اس مجرمانہ پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت بنجمن نیتن یاھو کی حکومت ہر اس آواز کو مٹانے پر تلی ہے جو صہیونی ریاست کے مکروہ چہرے سے نقاب اٹھاتی ہے۔
احتساب کی پکار
فورم برائے فلسطینی میڈیا نے بھی اپنے ساتھی کی شہادت پر بین کرتے ہوئے اس دانستہ قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ فورم نے یاد دلایا کہ غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ اس خونی جنگ کے آغاز سے اب تک درجنوں صحافی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس عظیم سانحے کی پوری ذمہ داری غاصب اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی عدالتیں ان جنگی جرائم پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے ان جلادوں کا محاسبہ کریں۔
سلگتی ہوئی غزہ اور سچائی کا نوحہ
محمد وشاح کی شہادت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں انسانیت سسک رہی ہے اور سیز فائر یا جنگ بندی کے تمام وعدے صہیونی طیاروں کی گھن گرج میں دب گئے ہیں۔ یہ خونی کھیل اس نسل کشی کی مہم کا حصہ ہے جو قابض اسرائیلی افواج نے امریکہ کی سرپرستی میں 8 اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع کی تھی۔ اب تک اس آگ اور خون کے کھیل میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 72 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ محمد وشاح کا لہو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ غزہ کی سچائی کو دفن کرنا دشمن کے بس میں نہیں ہے۔
