Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں سینکڑوں فلسطینیوں کا احتجاج، انروا کے خاتمے کی کوششیں مسترد

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ شہر کے مغرب میں واقع اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی “انروا” کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سینکڑوں فلسطینیوں نے بھرپور احتجاج کیا، جس کا مقصد اس بین الاقوامی ادارے کے خاتمے اور پناہ گزینوں کے مسئلے کو دفن کرنے کی کوششوں کو مسترد کرنا تھا۔

فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے محکمہ امورِ پناہ گزین کے زیر اہتمام منعقدہ اس احتجاجی مظاہرے میں شرکاء نے ایسے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر انروا کے بین الاقوامی مینڈیٹ کی تجدید کا مطالبہ درج تھا۔

مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انروا اس وقت تک قائم رہے گی جب تک فلسطینی پناہ گزین اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ جاتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انروا محض ایک امدادی ادارہ نہیں بلکہ یہ بے گھر کیے گئے فلسطینی عوام کا ایک قانونی حق ہے۔ مظاہرین نے قابض اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایجنسی کے کام کو ختم کرنے اور اسے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین سے تبدیل کرنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کر دیا۔

شرکاء نے خبردار کیا کہ اس بین الاقوامی ادارے کے کردار کو ختم کرنے کے حقِ واپسی اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔

مظاہرین نے ایجنسی کی جانب سے اپنے ہی ملازمین کے خلاف کیے گئے فیصلوں کو “ظالمانہ” قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کی برطرفی، تنخواہوں میں کٹوتی اور کام کے اوقات میں کمی جیسے فیصلے واپس لیے جائیں، کیونکہ ان اقدامات کے سروسز، تعلیم، صحت اور امدادی شعبوں میں پناہ گزینوں کی زندگیوں پر انتہائی منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

فلسطینی شہری غسان مصلح نے اناطولیہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شرکاء کے مطالبات کے دو پہلو ہیں: پہلا انروا کے مینڈیٹ کو برقرار رکھنا اور دوسرا اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کی بلاجواز برطرفیوں کو روکنا۔

فلسطینی خاتون ہالہ الناجی نے کہا کہ یہ احتجاج پناہ گزینوں اور انروا ملازمین کے حقوق میں کٹوتی کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ ملازمین قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کی وجہ سے مجبوراً غزہ پٹی سے باہر چلے گئے ہیں، اور ان کی حمایت کے لیے تمام گورنریوں سے لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خدمات میں کمی جنگ کے سائے میں زندگی گزارنے والے پناہ گزینوں کی قوتِ برداشت کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن ملازمین کی تنخواہیں بند کی گئی ہیں انہیں بحال کیا جائے کیونکہ یہ ان کا “آئینی حق” ہے، اور پناہ گزینوں کو باوقار زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ جنوری کے وسط میں انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے غیر معمولی مالی بحران کے پیش نظر سروسز کی فراہمی کے ہفتہ وار اوقات میں کمی کا فیصلہ کیا تھا، جس پر عمل درآمد سنہ فروری کی یکم تاریخ سے شروع ہو چکا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan