Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ میں سردی نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سردی کے تیز پنجوں اور کھلے آسمان کی بے رحمی کے درمیان غزہ کی پٹی کے بے گھر فلسطینی ایک نئے اور ہولناک مرحلے کی اذیت جھیل رہے ہیں، جہاں شدید قطبی طوفان کی آندھیوں نے ان کے ناتواں خیموں کو روند ڈالا اور یخ بستہ راتوں کو ایک کھلے ڈراؤنے خواب میں بدل دیا، جس کی قیمت معصوم بچوں اور ضعیف بزرگوں نے اپنی جانوں سے چکائی۔

غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس شہر کے مغرب میں واقع المواصی علاقے میں موسلا دھار بارش کے ساتھ چلنے والی تیز آندھیوں نے ہزاروں خیمے اکھاڑ پھینکے، جس کے باعث خاندان گھنٹوں کھلے آسمان تلے پڑے رہے، شدید سردی اور گھٹن زدہ نمی کے درمیان، یہ دل دہلا دینے والا منظر کارکنوں کے کیمروں میں محفوظ ہوا جس نے وسیع پیمانے پر غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔

رفح سے خان یونس ہجرت کرنے والے 59 سالہ بے گھر فلسطینی سیف سرور نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی کی بدترین راتوں میں سے ایک رات اس وقت گزاری جب آندھی نے ان کا خیمہ مکمل طور پر اکھاڑ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطینی محکمہ موسمیات کے اندازوں کے مطابق ہوا کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی تھی اور خیمہ مضبوطی سے باندھنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔

سیف سرور نے وضاحت کی کہ ان کی اہلیہ کی معذور والدہ کی موجودگی نے تکلیف کو دوچند کر دیا، انہوں نے زور دے کر کہا کہ خیمے گرمی سے بچا سکتے ہیں نہ سردی سے اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں، خیموں میں زندگی کے اس عذاب کو ختم کریں اور تعمیر نو کے آغاز تک عارضی حل کے طور پر موبائل گھروں کو داخل کرنے کی اجازت دی جائے۔

ادھر جبالیہ سے بے گھر ہونے والے خالد ابو شاویش نے بتایا کہ وہ پوری رات سو نہ سکے، کیونکہ وہ اپنی ضعیف والدہ کو تسلی دیتے رہے جو خیمے کے ہچکولوں، ہوا کے شور اور سمندر کی لہروں کی آواز سے شدید خوف کا شکار ہو گئیں، حالانکہ کیمپ ساحل سے تقریباً سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

مشرقی خان یونس سے بے گھر محمود الحداد نے بتایا کہ ان کی نومولود بیٹی سارہ، جس کی عمر ابھی دو ہفتے بھی نہیں، شدید سردی کے باعث نیلی پڑ گئی، جس پر اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ میرے پاس اپنی بے بسی کے اظہار کے لیے رونے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا، کیونکہ حرارت کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔

خوفناک اعداد و شمار، سردی سے موت

تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، غزہ میں سرکاری میڈیا دفتر نے اعلان کیا ہے کہ جارحیت کے آغاز سے اب تک شدید سردی کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 21 شہداء تک پہنچ گئی ہے، جن میں 18 بچے شامل ہیں، جبکہ موجودہ قطبی طوفان کے دوران ہی چار اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے بتایا کہ انسانی تباہی میدان میں مزید گہری ہو رہی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ 135 ہزار میں سے 127 ہزار خیمے رہائش کے قابل نہیں رہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بے گھر افراد کی بھاری اکثریت بغیر کسی حقیقی پناہ کے طوفانوں کا سامنا کر رہی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیل نے غزہ پٹی میں تقریباً 90 فیصد شہری ڈھانچہ تباہ کر دیا ہے، جبکہ 500 دن سے زائد عرصے سے جاری محاصرے نے کمبلوں اور حرارت کے ذرائع میں 70 فیصد سے زیادہ شدید کمی پیدا کر دی ہے، اس کے ساتھ ساتھ بنیادی رہائشی سامان کے داخلے پر بھی پابندی برقرار ہے۔

اسی طرح قابض اسرائیل کی جارحیت اور موجودہ موسمی دباؤ کے باعث جزوی طور پر تباہ شدہ گھروں اور تنصیبات کے منہدم ہونے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 24 ہو گئی ہے، جبکہ ہزاروں شہری ایسے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں جو کسی بھی وقت ان کی جانوں کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتے ہیں۔

طبی اور انسانی انتباہات

طبی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ شدید سرد قطبی طوفان کے تسلسل کے ساتھ بے گھر افراد نہایت دردناک انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، بچوں اور بزرگوں میں شدید سردی اور حرارت کے ذرائع کی عدم دستیابی کے باعث اموات ریکارڈ کی جا رہی ہیں، اس کے علاوہ تباہ شدہ عمارتوں کے جزوی انہدام کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں۔

بے گھر افراد کو کمبلوں اور بستر کی شدید قلت کا سامنا ہے جو انہیں زمین اور نمی سے بچا سکیں، خاص طور پر دور دراز اور الگ تھلگ علاقوں میں، جہاں خیموں میں پانی بھر جانے، سیوریج کے پانی کے رساؤ، شدید گنجان آبادی اور صحت عامہ کے بنیادی اصولوں کی عدم موجودگی کے باعث صحت اور ماحولیات کے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

میڈیا اور سردی، نسل کشی کا ہتھیار

سودان کے پروفیسر اور میڈیا کے ماہر ڈاکٹر احمد صافی الدین نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قدرتی عوامل کو بالواسطہ طور پر قتل کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے ہمارے نامہ نگار کو دیے گئے بیان میں کہا کہ شہریوں کو بغیر پناہ، بغیر حرارت اور بغیر تحفظ کے مکمل طور پر تباہ شدہ ماحول میں چھوڑ دینا، سردی کو ایک خاموش قاتل بنا دیتا ہے جو بمباری سے کم مہلک نہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ ان اعداد و شمار کو عالمی رائے عامہ پر دباؤ ڈالنے والی انسانی کہانیوں میں بدلا جائے، نہ کہ انہیں محض خشک اعداد و شمار بنا کر چھوڑ دیا جائے۔

جنگ بندی کے باوجود مسلسل جارحیت

سنہ 2023ء سات اکتوبر سے قابض اسرائیل نے غزہ پٹی کے خلاف نسل کشی پر مبنی جنگ چھیڑ رکھی ہے، جس میں قتل، بھوک، تباہی اور جبری بے دخلی شامل ہیں، یہ سب عالمی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔

طبی ذرائع کے مطابق، اس جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی تعداد 71,424 اور زخمیوں کی تعداد 171,324 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سنہ 2023ء 11 اکتوبر کو سیز فائر کے اعلان کے بعد سے اب تک 447 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ 697 لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan