غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور نسل کشی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دنیا بھر میں پر صہیونی ریاست کے خلاف مظاہروں اور دباؤ ڈالنے والی سرگرمیوں کے ذریعے ایک وسیع عالم گیر تحریک چلانے کی اپیل کی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کو موصول ہونے والے حماس کے ایک اخباری جماعت امت مسلمہ، عرب دنیا اور دنیا بھر کے زندہ ضمیر اور حریت پسند عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قابض حکومت کی مجرمانہ پالیسیوں اور غزہ کی پٹی پر اس کی مسلسل جارحیت کو مسترد کرتے ہوئے دنیا بھر کے شہروں، دارالحکومتوں اور چوراہوں پر ہر قسم کے اظہار یکجہتی اور احتجاجی مظاہروں کے لیے فوری طور پر میدان عمل میں نکلیں۔
حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ آنے والے دنوں بالخصوص ہر ہفتے کے جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے ایام کو ایک مسلسل اور عالمی احتجاجی تحریک میں تبدیل کیا جائے جو غزہ کے باشندوں کے خلاف قبضے، جارحیت اور نسل کشی کے مقابلے میں انسانی ضمیر کی آواز اور اس کی آزادانہ پکار کی عکاسی کرے۔
حماس نے قابض حکومت پر عوامی دباؤ بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اسے اپنی جارحیت روکنے، جنگ بندی کی پاسداری کرنے، فوری طور پر گزرگاہیں کھولنے، امداد فراہم کرنے اور تعمیر نو کا کام شروع کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
حماس نے واضح کیا کہ قابض حکومت فضائی حملوں اور مسلسل بمباری میں تیزی لا کر غزہ کی پٹی پر اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور نہتے شہریوں کے خیموں اور گھروں کو دھماکوں سے اڑا کر منظم قتل عام کے جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے جس سے ان کے انسانی مصائب میں مزید شدت آ رہی ہے۔
بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ بنجمن نیتن یاھو کی سربراہی میں قابض حکومت ثالثوں کے سامنے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے، بین الاقوامی قوانین و روایات کی توہین اور انسانی اقدار و اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے کی روزانہ اور جان بوجھ کر خلاف ورزی کر رہی ہے۔
یہ اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قابض فوج گذشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں قتل عام اور ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔
