غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب اسرائیل کی قابض فوج غزہ میں نازک جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، جس کے تحت رفح، مشرقی غزہ، بریدج کیمپ اور خان یونس پر فضائی، زمینی اور بحری حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں دانستہ طور پر رہائشی عمارتوں اور پناہ گزینوں کے مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غزہ شہر کے مشرق میں واقع التفاح پارک پر غاصب اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں دو شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
اس سے قبل، فیلڈ مانیٹرنگ کے دوران دفاع مدنی نے اعلان کیا کہ شہری احمد یحییٰ احمد رصرص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں۔ وہ تقریباً ایک ماہ قبل غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں غاصب اسرائیلی بمباری کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے اور ان کی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی۔
نامہ نگاروں کے مطابق قابض فوج کے ٹینکوں نے خان یونس کے وسط میں شدید فائرنگ کی، جبکہ رفح کے شمال میں موراج محور اور بریدج کیمپ کے شمالی حصوں میں بھی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔
ذرائع نے اشارہ کیا کہ غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں قابض افواج کی جانب سے فائرنگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ قابض فوج کی عسکری گاڑیوں نے رفح کے شمال میں موراج محور کے قریب اندھادھند فائرنگ کی، جس کے ساتھ ہی جنوبی علاقے خان یونس کے وسط میں شدید توپ خانہ بمباری بھی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق آج فجر کے وقت قابض فوج کی گاڑیوں نے وسطی غزہ کے بریدج کیمپ کے شمال میں فائرنگ کی، جبکہ قابض دشمن کی جنگی کشتیوں نے غزہ کے جنوبی ساحلوں پر سمندر کی جانب سے گولہ باری تیز کر دی۔
رفح کے مغرب میں زوردار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں جو قابض فوج کی جانب سے اس علاقے میں کی جانے والی مکانات کی مسماری کے نتیجے میں ہوئیں، جس سے زمینی تناؤ اور عسکری کارروائیوں کے دائرہ کار میں مزید وسعت آ گئی ہے۔
زرد لکیر (Yellow Line) کے پیچھے یا اس کے قریب واقع مکانات کی مسماری کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، جس سے دفاع مدنی کے عملے کے لیے نشانہ بنائے گئے علاقوں تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے اور جانی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گذشتہ روز بدھ کی شام، 41 سالہ شہری ہانی عبد الکریم سالم ابو جریبان دیر البلح کے مشرق میں ابو العجین کے علاقے پر غاصب اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔
جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ سے لے کر اب تک، قابض افواج اپنی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 650 فلسطینیوں کو قتل کر چکی ہیں، جن میں 198 بچے اور 85 خواتین شامل ہیں، جبکہ 1662 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023 ءسے شروع ہونے والی نسل کشی کی اس جنگ میں اب تک قابض افواج 72 ہزار سے زائد شہریوں کو شہید اور تقریباً 1 لاکھ 72 ہزار کو زخمی کر چکی ہیں، جبکہ 8 ہزار سے زائد شہری تاحال لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہری بنیادی ڈھانچے کا 90 فیصد حصہ مکمل تباہ ہو چکا ہے، جس کی تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ اقوام متحدہ نے تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔
انسانی بنیادوں پر، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے خبردار کیا ہے کہ 18,500 سے زائد مریض اور زخمی فوری طور پر بیرون ملک طبی امداد کے لیے منتقل کیے جانے کے منتظر ہیں، جن میں 4,000 بچے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ گزرگاہوں پر غاصب اسرائیلی پابندیاں اور طبی ہم آہنگی میں سست روی ہزاروں شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر جنگ کے زخمی، کینسر، گردے کے فیل ہونے اور پیچیدہ پیدائشی نقائص میں مبتلا مریضوں کے لیے حالات بدترین ہو چکے ہیں۔
سیاسی محاذ پر، علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی کوششیں کشیدگی کو روکنے اور جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے جاری ہیں، جس میں توجہ کا مرکز انسانی امداد کی پائیدار اور بغیر کسی رکاوٹ کے فراہمی ہے، تاہم جاری عسکری کشیدگی اور بڑھتا ہوا جانی نقصان ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
