Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

غزہ میں انسانی بحران خطرناک حد تک بڑھ گیا، ایمرجنسی جاری، عالمی ادارہِ صحت

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) عالمی ادارہ صحت کی ایگزیکٹو کونسل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نافذ صحتی ایمرجنسی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں مشرقی بیت المقدس بھی شامل ہے۔ یہ فیصلہ غزہ میں جاری اس گہرے انسانی اور صحتی انہدام کے تناظر میں کیا گیا ہے جو قابض اسرائیل کی سفاکانہ جارحیت کے نتیجے میں روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے۔

قرارداد کے مسودے کی منظوری 34 میں سے 27 ارکان کی اکثریت سے دی گئی جبکہ قابض اسرائیل واحد رکن تھا جس نے اس فیصلے کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ چار ارکان نے ووٹنگ سے اجتناب کیا اور تین ارکان اجلاس میں غیر حاضر رہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ایگزیکٹو کونسل نے صحتی تنصیبات اور طبی عملے پر بار بار اور براہ راست ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشنز کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

فیصلے میں فوری طور پر محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی راہداریوں کے قیام پر زور دیا گیا تاکہ ادویات طبی سامان اور ایندھن کی غزہ میں فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ایمبولینسوں اور طبی عملے کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے اور غزہ سے مریضوں اور زخمیوں کو بیرون علاج کے لیے جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایسے مریضوں کی تعداد 18 ہزار 500 ہے۔

قرارداد میں عالمی ادارہ صحت کے ذریعے عالمی برادری کے اس عزم کی تجدید کی گئی کہ فلسطینی شہریوں کا تحفظ کیا جائے اور صحت کے حق کو یقینی بنایا جائے نیز انسانی امدادی سرگرمیوں کو سیاسی دباؤ اور بلیک میلنگ سے دور رکھا جائے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ ایک بے مثال انسانی اور صحتی تباہی سے دوچار ہے۔ قابض اسرائیل کے مسلسل حملوں کے باعث ہسپتالوں طبی مراکز اور ایمبولینسوں کی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جبکہ طبی اور انسانی عملے کو بھی دانستہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنیوا میں مستقل فلسطینی مندوب ابراہیم خریشی نے اس فیصلے کی حمایت کرنے والی ریاستوں کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں صحتی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے رکن ممالک اور عالمی ادارہ صحت کے باہمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ زمینی حقائق کی عکاسی کرتا ہے اور ایمرجنسی کی صورتحال اور انسانی امدادی کام کے لیے واضح تحفظ فراہم کرتا ہے۔ خریشی نے زور دیا کہ فلسطینی صحت کا تحفظ ایک انسانی اور اخلاقی فریضہ ہے جسے سیاسی رنگ نہیں دیا جا سکتا خاص طور پر اس وقت جب شہریوں صحتی تنصیبات اور طبی عملے کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہو۔

خریشی نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قابض اسرائیل کے ہاتھوں 1 ہزار 582 ڈاکٹر اور امدادی کارکن شہید ہو چکے ہیں جبکہ طبی غفلت کے باعث 320 فلسطینی قیدی بھی جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایمرجنسی کی حالت برقرار رکھنا کوئی سیاسی آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر انسانی ضرورت ہے تاکہ عالمی ادارہ صحت اپنے منشور کے مطابق کام جاری رکھ سکے اور فلسطینی صحتی نظام کے بچے کھچے ڈھانچے کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے حالانکہ قابض اسرائیل اس ایمرجنسی کے خاتمے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

آخر میں خریشی نے کہا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے صحتی نظام اور انسانی امدادی کاموں کے خلاف جاری پالیسیاں بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ ان پالیسیوں میں 95 فیصد صحتی تنصیبات کو مکمل یا جزوی طور پر نشانہ بنانا اور 37 امدادی تنظیموں کو کام سے روکنا شامل ہے جن میں 22 صحت کے شعبے سے وابستہ تنظیمیں ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan