Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں انتظامی کمیٹی اور بین الاقوامی منصوبے تعطل کا شکار

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کے اثرات اور فلسطینی منظرنامے کے ساتھ علاقائی فائلز کے جڑ جانے کے باعث جارحیت کے بعد کے مرحلے سے متعلق انتظامات توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ نظر آ رہے ہیں۔

غزہ کے انتظام کے لیے “قومی انتظامی کمیٹی” کے کردار، فریقین کے درمیان علیحدگی کے لیے بین الاقوامی افواج کی تعیناتی اور تعمیرِ نو کے بدلے اسلحہ کی دستبرداری جیسے معاملات پر گفتگو کے درمیان، سیاسی تعطل اور تیزی سے بدلتی علاقائی صورتحال کے سائے میں ان مفاہمتوں پر عملدرآمد کے امکانات پر سوالات کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔

اس تناظر میں سیاسی تجزیہ نگار اور کاتب مامون ابو عامر کا ماننا ہے کہ میدانی اور سیاسی پیچیدگیوں اور وسیع تر علاقائی تصادم کے نتائج سے براہِ راست جڑے ہونے کی وجہ سے یہ تمام فائلز ایک طرح سے منجمد ہو چکی ہیں۔

انتظامی کمیٹی: ایک مؤخر قدم

مامون ابو عامر نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے سول معاملات چلانے کے لیے انتظامی کمیٹی کی تشکیل کا نظریہ بنیادی طور پر دیگر زیرِ بحث مفاہمتوں پر عملدرآمد سے جڑا ہوا ہے۔ ان میں سرِفہرست قابض اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی ہے، تاکہ ایک عبوری مرحلے کا آغاز ہو سکے جس کے دوران ماہرین (ٹیکنوکریٹس) پر مشتمل کمیٹی غزہ کی پٹی میں عوامی اور خدماتی امور کی ذمہ داری سنبھالے۔

لیکن ان کے تخمینے کے مطابق یہ انتظامات اپنے مقررہ وقت سے نکل چکے ہیں، خاص طور پر ایران میں جنگ سے متعلق علاقائی تناؤ اور لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد جس کے نتیجے میں جنگ کے بعد کے مرحلے سے متعلق کئی راستے عملی طور پر رک گئے ہیں۔

غزہ میں داخلے کا معمہ

ابو عامر نے اشارہ کیا کہ اس کمیٹی کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے ارکان اور حکام غزہ کی پٹی سے باہر مقیم ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیل حالیہ علاقائی کشیدگی سے پہلے بھی انہیں غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ ایک بنیادی بحران پیدا کرتا ہے، کیونکہ ایک ایسی انتظامی کمیٹی کے لیے غزہ کے عوامی امور چلانا ناممکن ہے جو غزہ میں داخل ہونے اور زمین پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہی سکت نہ رکھتی ہو۔

عالمی اداروں کے کردار پر سوالات

ابو عامر نے اس عمل کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ نام نہاد “عالمی کونسل برائے امن” کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اب تک قابض اسرائیل پر کوئی حقیقی دباؤ نہیں ڈالا کہ وہ کمیٹی کو غزہ داخل ہونے کی اجازت دے تاکہ انتظامیہ کی منتقلی کے عملی انتظامات شروع ہو سکیں۔

ان کا خیال ہے کہ اس صورتحال کا برقرار رہنا سیاسی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے اور جب تک کوئی مؤثر سیاسی مداخلت نہیں ہوتی، مجوزہ انتظامات کی کامیابی کے امکانات کمزور ہی رہیں گے۔

امریکی کردار کی اہمیت

ابو عامر نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی (سیز فائر) کے معاہدے کی شقوں پر عملدرآمد اور زمین پر عملی اقدامات شروع کرنے کے لیے براہِ راست دباؤ کے بغیر ان انتظامات کی کامیابی کے مواقع محدود ہیں۔

یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصر میں حماس کے ایک وفد کی موجودگی کی خبریں گردش کر رہی ہیں جو ان فائلز پر تبادلہ خیال کر رہا ہے، تاہم ابو عامر کے مطابق اس ملاقات سے اب تک ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جو ان مفاہمتوں پر کسی حقیقی عملدرآمد کی نشاندہی کرے۔

استحکام فورس کی تعیناتی میں تاخیر

ابو عامر نے بتایا کہ سنہ 2026ء کے اسی ماہ یعنی مارچ کے دوران غزہ کی پٹی کے اندر نام نہاد “یلو زون” میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی شروع کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں، لیکن اب تک اس قدم کا نہ اٹھایا جانا ٹال مٹول کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ قابض اسرائیل ان انتظامات پر عملدرآمد میں دانستہ تاخیر کر رہا ہے۔

اسلحہ سے دستبرداری کی گتھی

ان کے نزدیک تعمیرِ نو کے بدلے اسلحہ کی دستبرداری کی فائل موجودہ مرحلے کی پیچیدہ ترین فائلوں میں سے ایک ہے۔ مسئلہ صرف اسلحہ چھوڑنے کے اصول کا نہیں بلکہ ان شرائط کا ہے جو قابض اسرائیل اس پر عملدرآمد کے لیے لگا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل غزہ سے انخلاء اور گزرگاہیں کھولنے سے پہلے اسلحہ چھیننے کی کوشش کر رہا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ یہ عمل اس کے اپنے طے کردہ طریقہ کار کے مطابق ہو۔ یہاں کئی بنیادی سوالات اٹھتے ہیں: کس قسم کا اسلحہ مراد ہے؟ یہ کس کے حوالے کیا جائے گا؟ اور اس عمل کی نگرانی کون سا ادارہ کرے گا؟

انہوں نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ غزہ میں کسی واضح مقامی انتظامی کمیٹی یا عبوری اتھارٹی کی عدم موجودگی میں ایسے کسی اقدام پر عملدرآمد انتہائی دشوار نظر آتا ہے۔

مستقبل جنگ کے نتائج سے وابستہ

مامون ابو عامر نے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ موجودہ منظرنامہ سیاسی تعطل کی عکاسی کرتا ہے اور جب تک سیاسی راستہ دوبارہ بحال نہیں ہوتا اور زمین پر مفاہمتوں کا اطلاق نہیں ہوتا، غزہ کے مستقبل کے بارے میں کسی بھی واضح منظرنامے پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ ان انتظامات کا مستقبل علاقائی تصادم کے نتائج سے جڑا رہے گا۔ اگر حالات کسی معقول سیاسی تصفیے کی طرف بڑھے تو غزہ میں مرحلہ وار انتظامات کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب، اگر یہ ٹکراؤ امریکہ اور قابض اسرائیل کی واضح برتری پر ختم ہوا تو اس سے قابض ریاست میں تکبر کا احساس بڑھے گا، جو اسے مزید سخت گیر موقف اپنانے یا اپنے وعدوں سے منحرف ہونے پر اکسا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، ایران کے ساتھ مقابلے میں قابض اسرائیل کی کسی بھی ناکامی کی صورت میں اسرائیلی حکومت سیاسی اور عسکری طور پر کم قیمت والے محاذ تلاش کرنے کی کوشش کرے گی، جس کا اثر آنے والے وقت میں غزہ کی فائل سے نمٹنے کے طریقے پر بھی پڑے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan