غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں سرکاری میڈیا دفتر کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتہ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں سینکڑوں ٹرکوں کے داخلے کے حوالے سے جو اعداد و شمار مشتہر کیے جا رہے ہیں وہ زمین پر موجود حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے اور یہ اعداد و شمار معتبریت سے عاری ہیں۔ مرکزاطلاعات فلسطین کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے تصدیق کی کہ بعض حلقوں کی جانب سے اعلان کردہ اعداد و شمار فلسطینیوں کی وسیع انسانی ضروریات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور امداد کی اصل مقدار کے درمیان موجود بڑے فرق سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اعداد و شمار کی تشہیر انسانی تباہی کی صورتحال کو بہتر دکھانے کی کوشش ہو سکتی ہے، یا پھر امداد کی ترسیل پر لگی سخت پابندیوں پر پردہ ڈالنے اور بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کو کم کرنے کا ایک حربہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ میڈیا دفتر کے بیان پر قابض اسرائیل کے کوآرڈینیٹر کی جانب سے حملہ دستاویزی حقائق سے توجہ ہٹانے اور ان پیشہ ورانہ ذرائع پر شک پیدا کرنے کی کوشش ہے جو میدانی اعداد و شمار پر انحصار کرتے ہیں۔
اسماعیل الثوابتہ نے زور دیا کہ سرکاری میڈیا دفتر اپنے بیانات میں براہ راست میدانی مشاہدے اور بااعتماد ذرائع پر انحصار کرتا ہے اور حقائق کو مکمل درستگی کے ساتھ پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے تمام بین الاقوامی فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ادھوری کہانیوں کے پیچھے نہ چلیں اور غزہ کے باسیوں کی حقیقی ضروریات کے مطابق انسانی امداد کی روانی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ختم کرتے ہوئے کہا کہ غلط اعداد و شمار سے حقیقت کو مسخ کرنے کی کوششیں بحران کو نہیں بدل سکتیں اور نہ ہی قابض اسرائیل کو اس کی ذمہ داریوں سے بری الذمہ کر سکتی ہیں۔
