(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریش نے قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں متعدد بین الاقوامی غیر سرکاری انسانی تنظیموں کی سرگرمیاں معطل کرنے کے اعلان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
گوتیریش کے ترجمان اسٹیفن ڈوجاریک نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اعلان پہلے سے عائد پابندیوں میں مزید اضافہ ہے، جن کے باعث غزہ میں خوراک اور طبی امداد کی اشد ضروری رسد پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے۔
ڈوجاریک نے خبردار کیا کہ قابض اسرائیل کا حالیہ اقدام فلسطینیوں کو درپیش انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بین الاقوامی تنظیمیں انسانی امداد کے ناگزیر کام کے لیے انتہائی اہم ہیں اور ان کی سرگرمیوں کی معطلی غزہ میں سیز فائر کے دوران حاصل ہونے والی نازک پیش رفت کو خطرے میں ڈال دے گی۔
دوسری جانب گذشتہ روز 53 بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی خبردار کیا کہ فلسطینی علاقوں میں انسانی تنظیموں کے درجنوں لائسنس منسوخ کرنے کے قابض اسرائیل کے اقدامات کے سنگین انسانی نتائج سامنے آئیں گے۔
ان تنظیموں جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، میڈیسنز سان فرنٹیئرز اور اوکسفام شامل ہیں نے کہا کہ قابض اسرائیل کے یہ اقدامات انسانی امدادی کام کو شدید طور پر متاثر کریں گے اور امدادی سرگرمیوں کے رک جانے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا، ایسے وقت میں جب غزہ میں سیز فائر کے باوجود شہری شدید انسانی ضروریات سے دوچار ہیں۔
مشترکہ بیان میں بتایا گیا کہ 30 دسمبر گذشتہ کو 37 بین الاقوامی تنظیموں کو باضابطہ طور پر اطلاع دی گئی کہ 31 دسمبر کو ان کی رجسٹریشن ختم ہو جائے گی، جس کے بعد 60 دن کی مہلت شروع ہو گی اور اس کے بعد انہیں غزہ اور غرب اردن بشمول مشرقی القدس میں اپنی تمام سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی۔
بین الاقوامی تنظیموں کی یہ وارننگ اس وقت سامنے آئی ہے جب قابض اسرائیل کی حکومت نے غزہ اور غرب اردن میں کام کرنے والی متعدد تنظیموں کے لائسنس منسوخ کرنے کے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ انہوں نے قانونی رجسٹریشن کی شرائط مکمل نہیں کیں۔
گذشتہ منگل کو قابض اسرائیل کے اخبار یدیعوت احرونوت نے رپورٹ کیا کہ قابض اسرائیل کی حکومت نے غرب اردن اور غزہ میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے لائسنس منسوخ کرنے کے لیے باضابطہ قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جس کی قیادت وزارت برائے امورِ دیاسپورا اور یہود دشمنی کے انسداد کے تحت ایک مشترکہ وزارتی ٹیم کر رہی ہے۔
