Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں افطار کے سادہ دسترخوان اور خوف کا ماحول

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں رمضان المبارک اب ویسا نہیں رہا جیسا یہاں کے باسیوں نے دہائیوں تک دیکھا اور محسوس کیا تھا۔ وہ مہینہ جو سکون، اجتماعی عبادات اور بھرے دسترخوانوں سے عبارت تھا، آج جنگ کی ہولناکیوں، بڑے پیمانے پر جبری ہجرت، تباہی، وسائل کی شدید قلت اور روزمرہ کی زندگی کی تفصیلات میں آنے والی بنیادی تبدیلیوں کے زیر اثر ہے۔

اجتماعی نمازوں اور رمضان کی ان سرگرمیوں میں واضح کمی آئی ہے جو محلوں کو زندگی اور چہل پہل سے بھر دیتی تھیں۔ سینکڑوں مساجد کی شہادت کے بعد اب بہت سے خاندان پناہ گاہوں یا جزوی طور پر تباہ شدہ گھروں کے اندر ہی اپنی عبادات سرانجام دے رہے ہیں، جہاں خوف کے سائے لہرا رہے ہیں اور تحفظ کا احساس مکمل طور پر ناپید ہے۔

رمضان کے دسترخوان اب ماضی جیسی فراوانی کی عکاسی نہیں کرتے۔ غذائی اشیاء کی قلت اور قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے افطار اور سحر کی شکل بدل دی ہے، اب کھانے انتہائی سادہ اور زیادہ تر ملنے والی امداد پر منحصر ہوتے ہیں۔ بجلی کی عدم موجودگی اور پانی کی نایاب صورتحال نے روزمرہ کی تیاریوں کو خاندانوں کے لیے ایک اضافی بوجھ بنا دیا ہے۔

جہاں تک خاندانی ملاقاتوں کا تعلق ہے، جو اس مہینے کی روح کا بنیادی حصہ تھیں، جبری بے دخلی اور رشتہ داروں کے بکھر جانے کے باعث ان میں شدید کمی آئی ہے۔ بہت سے لوگ اگر ممکن ہو تو صرف فون پر رابطے پر اکتفا کرتے ہیں، جبکہ بچے ایک ایسا مختلف رمضان گزار رہے ہیں جس میں خوشی، سجاوٹ اور کھلونوں کے مظاہر بہت کم ہیں۔

“رمضان ذہنی سکون کا نام تھا.. آج سب کچھ تناؤ ہے”

بیت لاہیا سے ہجرت کر کے غزہ کے مغرب میں واقع ایک انروا سکول میں مقیم غسان فیاض کہتے ہیں کہ اس سال وہ رمضان کی آمد کو ویسے محسوس نہیں کر پا رہے جیسا انہیں عادت تھی۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ “ماضی میں ہم رمضان کے قریب آنے کی خبر سن کر ہی خوشی محسوس کرتے تھے، لیکن آج ہمیں سوائے اس کے کوئی فکر نہیں کہ ہجرت اور خیمے کے اندر رہنے کا ہمارا یہ عذاب کب ختم ہوگا”۔

وہ اپنے گھر میں گزارے ہوئے آخری رمضان کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں: “میں نے اور محلے والوں نے مل کر صفائی کی تھی، بجلی کے کھمبوں پر روشنیاں اور سجاوٹ لگائی تھی، مسجد کی صفائی کر کے اسے نمازیوں کے استقبال کے لیے تیار کیا تھا۔ لیکن آج نہ کوئی مسجد بچی ہے، نہ محلہ، نہ پیارے اور نہ ہی خوشی کا کوئی نشان”۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: “ہم ان اپنوں کو یاد کرتے ہیں جنہیں ہم نے کھو دیا ہے۔ رمضان اب ملاقاتوں اور صلہ رحمی سے خالی ہو چکا ہے، یہاں اب نہ کوئی رسم و رواج باقی ہیں، نہ دعوتیں، نہ مٹھائیاں اور نہ ہی باقاعدہ نماز تراویح۔ رمضان واقعی ذہنی سکون کا نام تھا، لیکن آج سب کچھ تناؤ اور تھکن ہے”۔

“یہ خیمے میں ہمارا تیسرا رمضان ہے”

جبالیا کیمپ سے غزہ کے مغرب کی طرف ہجرت کرنے والے محمد علیان اسی تلخی کے ساتھ منظر کشی کرتے ہیں: “ہم جنگ سے پہلے کی رمضان کی خوبصورت روایات کو یاد کرتے ہیں۔ اس کی آمد ہمیں خوشی اور تحفظ کا احساس دلاتی تھی، جو اب ہمیں محسوس نہیں ہوتا”۔

وہ کہتے ہیں کہ “یہ خیمے کے اندر ہمارا تیسرا رمضان ہے۔ نہ کوئی عادت باقی رہی نہ روایت۔ ہم گیس پر کھانا پکاتے تھے، بجلی کی روشنی میں افطار کرتے تھے اور اذان سنتے تھے۔ اب ہم آگ پر کھانا پکاتے ہیں، موبائل کی روشنی میں افطار کرتے ہیں اور اذان کا لمحہ خاموشی سے گزر جاتا ہے”۔

وہ زور دے کر کہتے ہیں “نہ کوئی سجاوٹ ہے، نہ فانوس اور نہ ہی بچوں کو خوش کرنے والی مٹھائیاں۔ سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے، رمضان اب بچوں کی خوشی یا نماز تراویح کا موسم نہیں رہا”۔

“روایات چاند سے پہلے شروع ہو جاتی تھیں.. لیکن وہ سب غائب ہو گئیں”

وداد حمودہ ان تفصیلات کو یاد کرتی ہیں جو اس مہینے کا خاصہ تھیں: “رمضان کی روایات چاند کی رویت کے اعلان سے نہیں بلکہ اس سے کئی دن پہلے شروع ہو جاتی تھیں۔ ہم گھر تیار کرتے تھے، ضرورت کا سامان خریدتے تھے اور ملاقاتوں کا شیڈول بناتے تھے”۔

وہ بتاتی ہیں: “رمضان کا دن نماز فجر اور تلاوت قرآن سے شروع ہوتا تھا، پھر افطار کے سامان اور مٹھائی کی خریداری کے لیے بازاروں کا چکر لگتا تھا۔ شام کو ہم دن کا اختتام باجماعت نماز تراویح پر کرتے تھے”۔

لیکن یہ سب بدل گیا ہے: “گھر تباہ ہو گیا، پیارے شہید ہو گئے اور جو باقی بچے وہ ہجرت کے کیمپوں میں بکھر گئے۔ جنگ کے ساتھ یہ پورا منظر ہی غائب ہو گیا ہے”۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan