غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں قابض اسرائیلی فوج کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں دو معصوم فلسطینی بچیاں شہادت کے منصب پر فائز ہو گئیں جب کہ فضائی اور توپ خانے کی بمباری کے ساتھ مختلف علاقوں میں شدید حملے جاری رہے۔ قابض فوج نے سیز فائر کے نازک معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل 83ویں روز بھی توپ خانے کی گولہ باری گھروں کی مسماری اور فضائی حملوں کا سلسلہ برقرار رکھا۔
طبی ذرائع نے بتایا کہ 11 سالہ بچی دانا حسین احمد مقاط شمال مشرقی غزہ شہر کے علاقے الزرقاء میں قابض اسرائیل کی فوج کی گولی لگنے سے شہید ہو گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق دوسری بچی جنوبی غزہ کے شہر رفح کے علاقے المواصی میں بے گھر افراد کے خیمے پر دیوار گرنے سے شہید ہوئی جب کہ اس واقعے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
بدھ کو علی الصبح قابض اسرائیل کے ہیلی کاپٹروں نے جنوبی غزہ کے شہر رفح پر شدید فائرنگ کی جو جنوبی علاقوں کے خلاف جاری فوجی جارحیت کا حصہ ہے۔
اسی دوران قابض فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں میں توپ خانے سے گولہ باری کی اور فوجی گاڑیوں سے شدید فائرنگ کی۔
قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے جنوبی غزہ کے شہر رفح پر فضائی حملہ کیا جب کہ فوجی گاڑیوں نے وسطی غزہ کے بریج اور مغازی کیمپوں کے جنوب مشرقی علاقوں پر بھی فائرنگ کی جس سے مختلف محاذوں پر مسلسل کشیدگی برقرار رہی۔
قابض اسرائیل کی فوج سنہ 10 اکتوبر 2025ء سے غزہ میں سیز فائر معاہدے کی روزانہ بنیادوں پر خلاف ورزی کر رہی ہے جن میں فضائی بری بحری حملے شہری گھروں اور املاک کی تباہی اور بے گھر افراد پر براہ راست فائرنگ شامل ہے۔
منگل کے روز برطانیہ کینیڈا ڈنمارک فن لینڈ فرانس آئس لینڈ جاپان ناروے سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں انسانی صورت حال کے دوبارہ بگڑنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور حالات کو تباہ کن قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ غزہ کے شہری شدید بارشوں اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث نہایت ہولناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب بھی 1.3 ملین افراد کو فوری طور پر رہائش کی مدد درکار ہے۔ بیشتر طبی مراکز جزوی طور پر کام کر رہے ہیں اور بنیادی طبی آلات اور سامان کی شدید قلت کا شکار ہیں جب کہ نکاسی آب کے نظام کے مکمل انہدام نے 7 لاکھ 40 ہزار افراد کو زہریلے سیلاب کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شمالی اور وسطی غزہ میں فضائی حملے توپ خانے کی گولہ باری اور فوجی گاڑیوں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جب کہ سیاسی میدانی اور انسانی سطح پر بھی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور سیز فائر معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخلے کے لیے علاقائی اور عالمی کوششیں جاری ہیں۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو جلد شروع ہو گی اور وسیع تباہی کے باعث اسے ایک مشکل جگہ قرار دیا۔ یہ بات انہوں نے فلوریڈا میں مارآلاگو ریزورٹ میں قابض اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کے دوران کہی۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ کے لیے مجوزہ عالمی استحکامی فورس میں ترکیہ کی افواج کی شمولیت پر بھی بات کریں گے۔
انہوں نے غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخلے کے لیے حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط دہرائی اور کہا کہ مشکلات کے باوجود تعمیر نو تیزی سے شروع کی جائے گی۔ ان کے بقول ہم نے پہلے ہی کچھ اقدامات شروع کر دیے ہیں اور غزہ کی جلد از جلد تعمیر نو کے خواہاں ہیں۔
