غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی جنگی طیاروں نے ہفتے کی علی الصبح غزہ پٹی کے مشرقی علاقوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے شدید فضائی حملے کیے، جبکہ توپ خانے کی گولہ باری اور اندھا دھند فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ یہ حملے اس سیز فائر معاہدے کی نئی اور سنگین خلاف ورزیاں ہیں جو سنہ 10 اکتوبر کو نافذ العمل ہوا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع التفاح محلے کے مختلف حصوں پر بمباری کی، جبکہ قابض اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے شمالی غزہ میں جبالیہ کیمپ کے مشرقی علاقوں پر فائرنگ کی۔
اسی طرح قابض اسرائیلی طیاروں نے وسطی غزہ میں دیر البلح شہر کے مشرقی علاقوں پر متعدد فضائی حملے کیے، جبکہ قابض اسرائیلی ہیلی کاپٹروں اور زمینی فوجی گاڑیوں نے خان یونس کے مشرق اور رفح شہر کے شمالی علاقوں میں بلاامتیاز فائرنگ کی، جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
جمعہ کے روز اسلامی حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں سیز فائر معاہدے کی قابض اسرائیل کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی اور ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنی جارحیت بند کرے اور طے شدہ معاہدے کی مکمل پابندی کرے۔
قابض اسرائیل ان خلاف ورزیوں کا سلسلہ اس کے باوجود جاری رکھے ہوئے ہے کہ امریکی انتظامیہ نے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
جمعرات کے روز غزہ میں حکومتی میڈیا دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ قابض اسرائیل نے سیز فائر کے پہلے مرحلے کے دوران 1244 مرتبہ خلاف ورزی کی، جن کے نتیجے میں 1760 فلسطینی شہید زخمی یا گرفتار ہوئے، یہ سب کچھ معاہدے کے نفاذ کے بعد سے جاری ہے۔
یہی معاہدہ اس نسل کش جنگ کے خاتمے کا باعث بنا جو قابض اسرائیل نے سنہ اکتوبر 2023ء میں شروع کی تھی اور جو دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہی۔ اس جنگ کے نتیجے میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ غزہ پٹی کے 90 فیصد سے زائد شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
