غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل سے تعلق رکھنے والے سابق اسیرِ باسل الہیمونی جمعرات کے روز جامِ شہادت نوش کر گئے۔ وہ گذشتہ روز بدھ کو غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی بمباری میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ باسل الہیمونی کو سنہ 2011 میں “وفاء الاحرار” تبادلہ اسیران معاہدے کے تحت رہائی کے بعد قابض دشمن نے جبری طور پر غزہ جلاوطن کر دیا تھا۔
اسیران میڈیا آفس نے اپنے بیان میں کہا کہ باسل الہیمونی نے رہائی اور جبری جلاوطنی سے قبل قابض اسرائیل کی جیلوں میں زندگی کے طویل برس گزارے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان کی شہادت ایک نیا سنگین جرم ہے جو اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ قابض دشمن رہا ہونے والے اسیران کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ سب انتقامی و اجتماعی سزا کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔
میڈیا آفس نے مزید بتایا کہ باسل الہیمونی کی غزہ جلاوطنی ان جبری اقدامات کا حصہ تھی جو کئی رہا پانے والے اسیران پر مسلط کیے گئے تھے۔ دفتر کے مطابق ان کا قتل اس انتقامی روش کی توسیع ہے جو قابض دشمن نے اسیرانِ محرر کے خلاف اپنا رکھی ہے۔
غزہ میں جاری نسل کشی کی اس ہولناک جنگ کے دوران قابض اسرائیلی افواج نے ان متعدد اسیرانِ محرر کو چن چن کر نشانہ بنایا ہے جنہیں غزہ کی پٹی کی طرف جلاوطن کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ قابض افواج نے گذشتہ روز غزہ کی پٹی پر اپنی جارحیت میں مزید شدت پیدا کر دی تھی جس کے نتیجے میں معصوم بچوں اور خواتین سمیت 24 شہری شہید ہو گئے تھے۔
