یروشلم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) عبرانی اخبار کالکالیسٹ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے قابض اسرائیل کے وزیراعظم کے دفتر سے منسلک سرکاری پروپیگنڈا سیل کے اندر شدید مالی اور انتظامی بدنظمی کا انکشاف کیا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قابض اسرائیل غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگ کے دوران بیرون ملک اپنا عکس بہتر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
حال ہی میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، اس ادارے کو سپلائرز اور میڈیا مشیروں کی جانب سے لاکھوں شیکلز کے مقدمات کا سامنا ہے جنہوں نے اپنے واجبات وصول نہیں کیے، اس کے علاوہ بنجمن نیتن یاھو کے دفتر کی ایک سابقہ ملازمہ سے منسوب دستخطوں میں جعل سازی کے کیس کی تحقیقات بھی جاری ہے۔
رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ سرکاری پروپیگنڈا سیل تقریباً دو سال سے انتظامی خلا کا شکار ہے کیونکہ اس کا کوئی مستقل سربراہ مقرر نہیں کیا گیا، جس نے بیرون ملک پروپیگنڈا مہمات چلانے کی اس کی صلاحیت کو متاثر کیا۔
اس بحران کا ایک سبب سنہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد پروپیگنڈا کی وزارت کی بندش بھی ہے جس کی سربراہ گالیت دستل اتبرریان تھیں، اخبار کے مطابق یہ وزارت آپریشنل مشکلات کی وجہ سے بند کی گئی۔
اس کے بعد موشیک افیف نے وزیراعظم کے دفتر کے اندر نیشنل پروپیگنڈا سیل کی ذمہ داری سنبھالی، واضح رہے کہ انہیں جنگ شروع ہونے سے صرف دو ماہ قبل سنہ اگست 2023 میں اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا جبکہ وہ ملک کے سرکاری پروٹوکول کے بھی ذمہ دار تھے۔
تحقیقات کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں کی جانے والی عارضی ترتیب نے انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کو جنم دیا، جن میں ٹینڈرز کے بغیر ترجمانوں اور مشیروں سے معاہدے، واجبات کی ادائیگی میں تاخیر اور بعض طریقہ کار پر فوجداری تحقیقات کا آغاز شامل ہے۔
غزہ پر جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی پروپیگنڈا سیل نے بین الاقوامی سطح پر قابض اسرائیل کا عکس بہتر کرنے کے لیے درجنوں ترجمانوں اور مشیروں کو بھرتی کرنے میں جلدی کی، بعض ذرائع نے بتایا کہ ان میں سے کچھ سرکاری ملازم تھے جبکہ اکثریت ریزرو فوجیوں یا بیرونی مشیروں پر مشتمل تھی۔
اخبار نے بتایا کہ وزیراعظم کے دفتر کے قانونی مشیروں نے وقت کی کمی کی وجہ سے نئے ٹینڈرز کے بجائے ایونٹ پروڈکشن کمپنیوں کے ساتھ موجودہ معاہدوں میں توسیع کی منظوری دی، جس نے ان کمپنیوں کو بیرون ملک اسرائیلی میڈیا کی نمائندگی کرنے والے ترجمانوں کے لیے ادائیگی کا ایک بالواسطہ راستہ بنا دیا۔
ان تحقیقات میں سامنے آنے والے نمایاں کیسز میں اسرائیلی ترجمان ایلون لیوی کا معاملہ ہے جن کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 41 ہزار شیکل (تقریباً 11 ہزار ڈالر) تھی، یہ تنخواہ سرکاری خزانے سے براہ راست نہیں بلکہ انٹیلیکٹ نامی ایک نجی کمپنی کے ذریعے ادا کی جاتی تھی۔
لیوی نے اخبار کو بتایا کہ انہوں نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں بطور رضاکار کام شروع کیا تھا، بعد میں انہیں 250 شیکل فی گھنٹہ کے حساب سے ماہانہ 165 گھنٹوں کے لیے بیرونی مشیر کے طور پر کام کی پیشکش کی گئی، انہوں نے تصدیق کی کہ ان کی ملازمت کی حیثیت کبھی سرکاری معاہدے کے تحت منظم نہیں کی گئی اور سیل اب بھی ان کا مقروض ہے، تاہم انہوں نے مقدمہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق مئی سنہ 2024 میں موشیک افیف کے جانے اور گالیت واہبا شاشو کے ذمہ دار بننے کے بعد تنازعات میں شدت آگئی کیونکہ انہوں نے سخت پالیسی اپنائی اور ان معاہدوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو ان کے چارج سنبھالنے سے پہلے کیے گئے تھے۔
بدنظمی پر قابو پانے کی کوشش میں وزیراعظم کے دفتر نے ایک داخلی کمیٹی بنائی جسے ماضی کے معاہدوں کی توثیق کرنے والی کمیٹی قرار دیا گیا، تاہم کئی سپلائرز کو اس کمیٹی سے منظوری نہیں ملی جس پر انہوں نے عدالت کا رخ کیا۔
ان مقدمات میں نداف یہود نامی طالب علم کا کیس بھی شامل ہے جس نے سنہ 7 اکتوبر 2023 سے چار ماہ تک کام کیا اور 38.9 ہزار شیکل کے واجبات کا مطالبہ کیا، جس پر تل ابیب کی عدالت نے ریاست کو مکمل ادائیگی کا حکم دیا۔
دوران سماعت حکومت نے ادائیگی میں تاخیر کا جواز پولیس کی جاری تحقیقات کو قرار دیا لیکن عدالت نے نداف یہود کے حق میں فیصلہ سنایا۔
حکومت کو انٹیلیکٹ کمپنی کی جانب سے بھی 1.7 ملین شیکل کے مطالبے کا سامنا ہے جو قیدیوں کے معاملے پر بین الاقوامی میڈیا مانیٹرنگ سے متعلق ہے، جبکہ اسپیڈی کال کمپنی نے بھی 6 لاکھ 25 ہزار شیکل کا دعویٰ کیا ہے جو تل ابیب میں وزارتِ سکیورٹی کے اندر اسٹوڈیو بنانے کے اخراجات ہیں جسے بنجمن نیتن یاھو اور وزیر سکیورٹی یوآف گیلنٹ عالمی میڈیا کو بیانات دینے کے لیے استعمال کرتے رہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے نو ماہ تک خدمات دیں لیکن حکومت آرڈر خرید پر دستخط نہ ہونے کا بہانہ بنا کر ادائیگی نہیں کر رہی۔
ادارے کی سابقہ بین الاقوامی انچارج ایلانا سٹائن بھی پانچ ماہ کے واجبات کے لیے مقدمہ کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
