تحریر: ڈاکٹر صابرابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ جنگ بندی کے عنوان سے دوسرے مرحلہ میں امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس متعارف کروایا ہے۔ اس بورڈ میں پاکستان سمیت دیگر سات ممالک نے بھی شمولیت اختیار کر لی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو خود امریکی صدر ٹرمپ نے اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی اور پاکستان نے شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔دیگر مسلمان ممالک میں مصر، سعودی عرب، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مراکش، اردن اور ترکی شامل ہیں۔
اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد مغربی دنیا کے ماہرین سیاسیات کا کہنا ہے کہ ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کی آڑ میں دنیا میں اقوام متحدہ کے مقابلہ پر ایک نیا نظام متعارف کروانے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ دنیا میں تمام معاملات میں امریکی صدر کی من مانی چلتی رہے۔
جہاں تک پاکستان کی غزہ بورڈآف پیس میں شمولیت کا سوال ہے تو حکومت نے ٹرمپ کی خوشنودی کی خاطر اس بورڈ میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے لیکن نہ تو حکومت نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس موضوع پر کوئی بحث کی اور نہ ہی کسی سے مشاورت کرنا گوارا کیا، بلکہ ایک سولو فیصلہ کے ذریعہ امریکہ کے صدر کو خوش کرنے کی کوشش کی ۔دوسری طرف پاکستان بھر میں عوام، صحافیوں، وکلاء، سیاستدانوں اور دانشوروںسمیت تمام طبقات نے حکومت پاکستان کی غزہ پیس پورڈ میں شمولیت کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کے عوام کا واضح اور دو ٹوک موقف ہے کہ امریکی سربراہی میں کسی بھی ایسے فورم میں شرکت کرنا فلسطینی عوام کے ساتھ خیانت ہے۔البتہ کچھ حکومتی پے رول پر کام کرنے والے صحافی اور افراد حکومت کے اس غلط فیصلہ کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
غزہ امن بورڈ حقیقت میں ایک ایسا اقدام ہے جس میں امن کے نام کو استعمال کیا گیا ہے لیکن یہ ایک ایسا امن ہے جو فلسطین میںفلسطینیوں کے بغیر ہو گا۔جس طرح بتایا گیا ہے کہ یہ گذشتہ سال غزہ جنگ بندی معاہد ے کا ہی دوسرا دور ہےلیکن حقیقت تو یہی ہے کہ پہلے دور میں بھی جنگ بندی کی کوئی عملی شکل سامنے نہیںآنے پائی تھی۔ اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں کی گئی ہیں اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ بمباری جاری ہے، قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے،انسانی بحران پہلے سے زیادہ سنگین ہو چکا ہے،اگلا ایجنڈا اب فلسطین کی مزاحمتی قوتوں بالخصوص حماس کو غیر مسلح کرنے کا ہے۔یعنی امن کے نام پر مزاحمت کو ختم کرنے کا منصوبہ۔اس بارے میں ٹرمپ نے اکیس جنوری کو اپنے خطاب میں واضح اعلان کیا ہے کہ غزہ امن بورڈ نامی فورم میں دنیا کے 59ممالک شامل ہو چکے ہیں اور یہ سب غزہ میں حماس کو ختم کرنے اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ مسلمان ممالک کی افواج کی ترجمانی ٹرمپ کررہاہے اور بتا رہا ہے کہ دنیا بھر کی اور مسلمان ممالک کی افواج غزہ سمیت لبنان میںمزاحمت کے خاتمہ کے لئے جائیں گے۔دوسری طرف اسحاق دار پاکستان کےعوام کو ہمیشہ کی طرح توڑ مروڑ کر یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم غزہ میں حما س کے خلاف نہیں جائیں گے لیکن حقیقت بر عکس ہے شمولیت کی جا چکی ہے اور اب چار ہزار فوجی بھیجے جائیں گےکیونکہ اس امن بورڈ کا حصہ ہے۔
پاکستان کی اس منصوبہ میں شمولیت نے پاکستان کے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ اب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فلسطینی عوام کے قاتل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایک میز پر بیٹھ کر فلسطین کے لئے امن کی بات کریں گے۔ حالانکہ نیتن یاہو تو دوٹوک انداز میں اعلان کرچکا ہے کہ غزہ امن بورڈ کے تمام اراکین کو نیتن یاہو کی بات ماننا ہو گی۔پاکستان کے عوام کو یہ بھی تشویش لاحق ہے کہ نیتن یاہو کو ترکیہ کی افواج غزہ میں تعینات کرنے پر اعتراض ہے لیکن پاکستان کی افواج کی غزہ میں تعیناتی پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں، اس معاملہ نے پاکستان کے سیاسی و مذہبی اور تدریسی حلقوں میں بے چینی کو جنم دیا ہے۔
حکومت پاکستان نے عوام کو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ موقف اختیار کر لیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803کے تحت غزہ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کر رہا ہے ۔لیکن عوام آج کل اتنے بھی سادہ نہیں ہیں جتنا ان کو سمجھا جا رہاہے۔اگر حکومت کی یہ بات مان لی جائے تو کیا اسی عالمی فورم مسے تعلق رکھنے والی ایک عالمی عدالت ICCنے نیتن یاہو کے گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کئے ہوئے ؟ کیا پاکستان کا وزیر اعظم ایک ایسی میز پر ایسے شخص کے ساتھ بیٹھے گا جو عالمی عدالت انصاف کو مطلوب ہے اور جس پر ہزاروںفلسطینیوں کے قتل کا مقدمہ ہے۔اگر حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی پاسداری کا اتنا ہی خیال ہے تو ا س قرارداد سے قبل عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ پر بھی عمل کرنے کے لئے کوئی اقدامات انجام دینے چاہئیں۔
اب اگر پاکستان کا وزیر اعظم اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ اس غزہ امن معاہدے کی میز پر بیٹھ جاتا ہے تو پھر سوال یہ بھی ہو گا کہ نظریہ پاکستان کا کیا کریں ؟ قائد اعظم محمد علی جناح کے افکار اور نظریات کو کتابوں سے حذف کر دیں کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے ؟ پاکستان کے فلسطین پر اصولی موقف کو کیا سمجھا جائے ؟ کشمیر میں حق خود ارادیت کی تحریک اور حمایت کو لپیٹ دیا گیا یہ سمجھا جائے ؟ ایسے درجنوں سوالات صرف اور صرف اس لئے جنم لے رہے ہیں کیونکہ پاکستان نے امریکی سرپرستی میں غزہ امن معاہدے میں شمولیت کا ایک تاریخی غلط فیصلہ کر لیا ہے اور پاکستان کے عوام اس فیصلہ کے خلاف ہیں۔
غزہ امن بورڈ میںپاکستان اور دیگر سات مسلمان ممالک نے شمولیت تو اختیار کر لی ہے لیکن اس بورڈ میں ان سب کی حیثیت کو ایک غلام کی حیثیت دی گئی ہے کیونکہ بورڈ کی ایگزیکٹیو باڈی سارے فیصلے کرے گی اور اراکین کو اس پر عمل درآمد کرنا ہو گا، پاکستان سمیت دیگر سات ممالک اس میں اراکین کی حیثیت سے ہیں۔ٹرمپ جو کہ خود اس بورڈ کے چیئر میں بن چکے ہیں انہوں نے قاتلوں کا ایک ٹولہ جس میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر ، داماد جیرڈ کوشنر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف اور اجے بنگا سمیت کچھ اور امریکیوں کو رکھا ہے۔یعنی فلسطین کے مستبقل کے فیصلوں کو غیر فلسطینی کمیٹی انجام دے گی ۔
غزہ امن بورڈ میں روس کے صدر پیوٹن کو بھی دعوت دی گئی ہے لیکن انہوںنے اس بورڈ میں شمولیت کو مسترد کیا اور کہا کہ ہم فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع چاہتے ہیں نہ کہ ان کے خلاف فیصلہ جات، یعنی روسی صدر نے ایسا موقف اپنایا ہے جس کی توقع ہمیں مسلمان ممالک سے کرنا چاہئیے تھی۔ترکیہ کا کردار بھی سوالیہ نشان اور ہتک آمیز ہے۔ ایک طرف ترکیہ نے امریکی دعوت کو قبول کر کے شمولیت کی ہے دوسری طرف اسرائیل کا ترکی پر دبائو ہے کہ اپنی افواج غزہ نہ بھیجے۔یورپی ممالک نے بھی ٹرمپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا ہے۔ فرانس کے صدر میکرون نے بھی اس نام نہاد امن بورڈ کی مخالفت کی ہے ۔
خلاصہ یہ ہےکہ اس ساری صورتحال میں ٹرمپ اس بورڈ کو غزہ تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ عالمی تنازعات میں ہر جگہ اس بورڈ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں اور تمام فیصلے اپنی من مانی سے کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ کے ان اقدامات سے عالمی سطح پر خدشات بڑھ رہے ہیںکیونکہ یہ امن نہیں بلکہ طاقت اور بدمعاشی کا تسلسل ہے کہ جس کی بنیاد پر کمزور اور متوسط ممالک پر اپنی اجارہ داری کو از سر نو قائم کیا جائے۔
سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک ایسے فورم میں بیٹھ کر غزہ کی بات کرے گا جہاں قاتل نیتن یاہو بھی ساتھ بیٹھا ہو گا۔یعنی اس کا مطلب فلسطینی عوام کے قاتل فیصلہ ساز ہوں گے اور فلسطین اس تصویر سے مکمل طور پر غائب ہو گا ؟تاریخ میں ہمیشہ درست اور غللط دونوں فیصلہ کرنے والوں کو یاد رکھا جاتا ہے ۔اب حکومت پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ خود کو تاریخ کے درست سمت میں رکھتی ہے یا پھر غلط سمت میں جا کر قاتل اور سفاک ٹولہ کی سہولت کاری کرتی ہے۔اگر حکومت پاکستان نے ظالم اور سفاک ٹولہ کا ساتھ دیا تو پھر پاکستان کی بنتی ہوئی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہو گی جوگذشہ چند ماہ میں عروج حاصل کر رہی تھی۔