غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے کمیٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ قابض اسرائیل کو سیز فائر معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے۔ ان شقوں میں سرِفہرست رفح کراسنگ کی مکمل بحالی اور غزہ کی پٹی سے قابض افواج کا مکمل انخلا شامل ہے۔
حماس کا یہ مؤقف اس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے میڈیا مشیر طاہر النونو نے امریکہ کی جانب سے غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے بیان کیے۔
طاہر النونو نے الجزیرہ چینل سے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ حماس طویل عرصے سے غزہ کے لیے انتظامی کمیٹی کی تشکیل کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا عملی طور پر کام شروع کرنا ایک ایسا اہم قدم ہے جو غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کی طویل اذیت اور مشکلات کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حماس کمیٹی کی کامیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی تاکہ غزہ پٹی میں استحکام پیدا ہو اور معمول کی زندگی کی واپسی کی راہ ہموار کی جا سکے۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی جانب سے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے اعلان کے حوالے سے طاہر النونو نے کہا کہ حماس اس تمام معاہدوں کی پابند ہے جن پر اس نے دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کے بدلے قابض اسرائیل کو بھی اپنے وعدوں پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے گا بالخصوص رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولنا اور غزہ کی پٹی سے قابض فوج کا مکمل انخلا یقینی بنانا نیز اشیا، امدادی سامان اور تعمیراتی مواد کی آزادانہ ترسیل کی ضمانت دینا شامل ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ قابض اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت نے گذشتہ اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کے مطابق ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ ادارہ ایک بین الاقوامی امن کونسل کی نگرانی میں عبوری مدت کے لیے غزہ پٹی کا انتظام سنبھالے گا۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ فلسطینی کمیٹی 14 ارکان پر مشتمل ہوگی جس کی سربراہی علی شعث کریں گے جو فلسطینی اتھارٹی میں سابق نائب وزیر رہ چکے ہیں اور صنعتی علاقوں کی ترقی کے ذمہ دار بھی رہے ہیں۔
ضمانتوں کے حوالے سے طاہر النونو نے بتایا کہ ثالثوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات کی یقین دہانیاں شامل ہیں کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد جاری رہے گا۔ انہوں نے اسے درست سمت میں ایک قدم قرار دیا جو انتظامی کمیٹی کو اپنی مکمل ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنائے گا جن میں کراسنگز کی بحالی، امداد کی فراہمی، قابض افواج کا انخلا، پائیدار سکون کی بحالی اور بحالی و ہمہ گیر تعمیر نو کے لیے سازگار حالات کی تیاری شامل ہے۔
قابض اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے خدشات پر تبصرہ کرتے ہوئے طاہر النونو نے کہا کہ قابض اسرائیل روزانہ کی بمباری، ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت، کنٹرول کے علاقوں میں توسیع اور انتظامی کمیٹی کے کام میں رکاوٹیں ڈال کر معاہدے سے راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے جاری ہیں تاکہ قابض اسرائیل کو معاہدے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے جن میں وہ نکات بھی شامل ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے میں طے پائے تھے اور جن پر تمام فریقوں نے اتفاق کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ معاہدے سے انحراف کی کوششیں جاری ہیں تاہم عمل درآمد یقینی بنانے کی جدوجہد بھی پوری قوت سے جاری ہے۔
آنے والے مرحلے کے بارے میں طاہر النونو نے کہا کہ حماس ثالثوں، عالمی برادری اور علاقائی فریقوں کے ساتھ قریبی اور بھرپور رابطہ جاری رکھے گی تاکہ کشیدگی میں کمی، معمول کی زندگی کی واپسی، فلسطینی عوام کے اتحاد اور مشترکہ قومی جدوجہد کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری کی جانب سے سلامتی، استحکام، بحالی اور تعمیر نو کے حق میں موجود سیاسی ارادہ جلد عملی حقیقت میں ڈھل جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اس سے قبل بدھ کے روز ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے ایک عبوری فلسطینی ٹیکنوکریٹک انتظامیہ کا قیام اور اس کے ساتھ ساتھ مکمل اسلحہ برداری کے خاتمے کا عمل شروع کرنا اور وسیع پیمانے پر تعمیر نو کے منصوبے نافذ کرنا ہے۔
وٹکوف نے اس موقع پر کہا تھا کہ امریکہ حماس سے اس کی تمام ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کی توقع رکھتا ہے جن میں باقی ماندہ قابض اسرائیلی اسیر کی لاش کی فوری حوالگی بھی شامل ہے اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔
قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی نسل کش جنگ جو پورے دو برس تک جاری رہی اس کے نتیجے میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 171 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے جن کی اکثریت بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔ اس دوران شہری بنیادی ڈھانچے کا تقریباً 90 فیصد حصہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا جو قابض ریاست کی سفاکیت کا کھلا ثبوت ہے۔
