Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غاصب اسرائیلی رکاوٹوں کے باعث غزہ انتظامی کمیٹی فعال نہ ہو سکی

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے زخم خوردہ عوام کے لیے تشکیل دی گئی قومی انتظامی کمیٹی کے قیام کو ایک ماہ گزر جانے کے باوجود اس کی سرگرمیاں مسلسل تعطل کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے ان تمام امیدوں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں جو ایک ایسے وقت میں وابستہ کی گئی تھیں جب غزہ کی پٹی غاصب اسرائیل کے وحشیانہ حملوں اور انسانیت سوز نسل کشی کی آگ میں جھلس رہی ہے۔ فلسطینی حلقے سوال کر رہے ہیں کہ کیا اس کمیٹی کو محض ایک نمائش کے طور پر رکھا گیا ہے یا صہیونی دشمن اسے فلسطینیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے؟

قیام کا پس منظر اور سیاسی جال

غزہ انتظامی کمیٹی کا اعلان گذشتہ جنوری سنہ 2026ء کے وسط میں ایک ایسے ماحول میں کیا گیا تھا جب عالمی برادری جنگ کے بعد کے حالات اور تعمیر نو کے حوالے سے دباؤ ڈال رہی تھی۔ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے سائے میں بنائی گئی یہ کمیٹی اگرچہ کاغذی طور پر تیار ہے، لیکن غاصب اسرائیل کی سنگدلانہ مخالفت کی وجہ سے یہ اب تک غزہ کی مٹی پر قدم رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ عملی طور پر اسے کسی بھی قسم کے بجٹ یا ادارے سے محروم رکھ کر محض ایک “خیالی حکومت” بنا دیا گیا ہے۔

کمیٹی کو بے بس کرنے کی عالمی کوششیں

یورو میڈیٹرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کے سربراہ، رامی عبدہ نے ایک خفیہ دستاویز کے لرزہ خیز حقائق منظر عام پر لائے ہیں۔ ان کے مطابق، امریکہ اور قابض اسرائیل کی ملی بھگت سے تیار کردہ منصوبہ اس کمیٹی کو فلسطینیوں کا آزاد نمائندہ بنانے کے بجائے ایک ایسی جلاوطن کٹھ پتلی بنانا چاہتا ہے جو صہیونی مفادات کی محافظ ہو۔ اس تزویراتی جال میں بین الاقوامی سفارت کار نکولے ملادی نوف کے دفتر کو تو بے پناہ وسائل دیے جا رہے ہیں، لیکن فلسطینی کمیٹی کو بے دست و پا چھوڑ دیا گیا ہے۔

رامی عبدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس پورے منصوبے کا مقصد فلسطینیوں کی نسل کشی رکوانا یا ان کے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر نو نہیں، بلکہ ایک ایسا سیکیورٹی نظام مسلط کرنا ہے جو سویلین اداروں کو عسکری بوٹوں تلے کچل دے۔ یاد رہے کہ 10 اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی کے نام نہاد اعلان کے باوجود قابض اسرائیل کی سفاکیت نے مزید 618 فلسطینیوں کو ابدی نیند سلا دیا ہے جبکہ 1602 سے زائد زخمی تڑپ رہے ہیں۔

مالی استحصال اور فلسطینی اداروں پر شب خون

کمیٹی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ تنخواہوں اور انتظامی معاملات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس سازش کے تحت غزہ کے موجودہ سرکاری ملازمین کی ایسی “سیکیورٹی جانچ” کی جائے گی جس کا مقصد حماس کے عسکری ونگ یا مزاحمتی سوچ رکھنے والے باصلاحیت افراد کو نکال باہر کرنا اور ان کی جگہ ایسے لوگوں کو لانا ہے جو مالی مفادات کے عوض صہیونی ایجنڈے کو پروان چڑھائیں۔ یہ فلسطینیوں کے انتظامی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔

رفح کا نیا “گیٹو”: قید تنہائی کا ہولناک منصوبہ

اس رپورٹ کا سب سے دلدوز پہلو رفح میں ایک نئے “گیٹو” (مخصوص قید خانہ) کی تعمیر کا منصوبہ ہے، جس کی مالی معاونت متحدہ عرب امارات کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو ایسے کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا جہاں ان کی زندگی کا ہر لمحہ صہیونی سیکیورٹی کے سخت پہرے میں ہوگا۔ ماہرین اسے انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی اور فلسطینیوں کو ان کی اپنی زمین پر قیدی بنانے کی ایک بدترین مثال قرار دے رہے ہیں۔

کمیٹی کا کرب: “ہمیں زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے”

کمیٹی کے سربراہ علی شعت نے اپنے بیان میں فلسطینی کاز کے تئیں عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے بے قرار ہیں، لیکن جب تک انہیں مکمل انتظامی اور پولیس کے اختیارات نہیں ملتے، ان کا ہاتھ باندھے رکھنا مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ قابض اسرائیل کی رکاوٹوں کو ختم کرائیں تاکہ تعمیر نو کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

ناکامی کے اسباب اور صہیونی ہتھکنڈے

تجزیہ نگار وسام عفیفہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ اور ان کے دیگر انتہا پسند ساتھیوں کی پالیسیاں اس تعطل کی اصل وجہ ہیں۔ انہوں نے نکولے ملادی نوف کی قیادت میں کام کرنے والے ڈھانچے کی کئی ناکامیوں کی نشاندہی کی، جن میں مالی وسائل کی کمی، سیکیورٹی کے غیر واضح تصورات اور کمیٹی کے اراکین کو غزہ میں داخل ہونے سے روکنے جیسے عوامل شامل ہیں۔ 2 فروری سنہ 2026ء کو رفح کراسنگ کھلنے پر کمیٹی کی آمد متوقع تھی، لیکن غاصب اسرائیل کی رکاوٹوں نے اس راستے کو مسدود کر دیا۔

اجتماعی قبروں میں تبدیل ہوتے غزہ کے لیے یہ انتظامی کمیٹی ایک امید کی کرن تھی، لیکن صہیونی دشمن اور عالمی طاقتوں کے مفادات اسے فلسطینیوں کی نسل کشی کے آلے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan