مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے عید الفطر کے مبارک اور پہلے ہی روز مقبوضہ مغربی کنارے کے متعدد علاقوں میں اپنی سفاکانہ کارروائیوں اور جارحیت میں اضافہ کر دیا ہے۔
قابض افواج نے شہریوں کو جنین کیمپ کے مضافات میں واقع شہداء کے قبرستان تک پہنچنے سے روک دیا اور قبرستان کے گرد و نواح میں اپنے مسلح اہلکار تعینات کر دیے۔
قابض اسرائیل نے شہریوں کو عید کے پہلے دن اپنے پیارے شہداء کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے جانے سے روک کر رکاوٹیں کھڑی کیں اور انہیں طاقت کے زور پر وہاں سے نکل جانے پر مجبور کیا۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے جنین کے جنوب میں واقع قصبے عجہ پر دھاوا بولا اور متعدد گھروں کی تلاشی لی تاہم کسی گرفتاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اسی تسلسل میں قابض اسرائیلی افواج نے آج جمعہ کی صبح نابلس کے جنوب میں واقع قصبے حوارہ اور اوصرین گاؤں پر بھی ہلہ بول دیا۔ دشمن نے کئی فوجی گاڑیاں علاقے میں داخل کیں اور حارہ الصوابنہ میں گھروں کے اندر گھس کر تلاشی لی اور گھروں کے سامان کی توڑ پھوڑ کی۔
مقامی ذرائع نے اشارہ کیا ہے کہ قابض دشمن کی گاڑیوں نے اوصرین گاؤں پر دھاوا بولا جس کے بعد اسرائیلی فوجی قصبے کے وسط میں پھیل گئے اور شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی۔
القدس میں قابض افواج نے آج جمعہ کی صبح مقبوضہ القدس کے شمال مغرب میں واقع الجیب فوجی چوکی کو بند کر دیا۔
القدس گورنری کے مطابق قابض افواج نے الجیب فوجی چوکی کو بند کر کے سینکڑوں شہریوں کو علاقے کی مساجد میں نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے جانے سے روک دیا۔
ادھر قابض افواج نے آج جمعہ کے روز علی الصبح مقبوضہ القدس کے شمالی قصبے بیت حنینا میں مسجد الدعوہ کے امام شیخ فادی الجبرینی کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی کے بعد انہیں گرفتار کر لیا۔
