غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے انسانی اعضاء کے عطیات کے شعبے میں قابض اسرائیل کی جانب سے اعلان کردہ ریکارڈ اعداد و شمار پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اعداد و شمار اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے کہ اتنی بڑی تعداد میں گردے آخر کہاں سے آرہے ہیں۔
منیر البرش نے ایک پریس بیان میں وضاحت کی کہ وہی قابض اسرائیل جو برسوں سے فلسطینی شہداء کے جسدِ خاکی اپنی تحویل میں رکھے ہوئے ہے، آج اعضاء کے عطیات کے بے مثال اعداد و شمار پر فخر کر رہا ہے اور خود کو اس میدان میں ایک جدید انسانی نمونے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ طویل عرصے تک قابض دشمن کی تحویل میں رہنے کے بعد جب شہداء کے جسدِ خاکی ان کے خاندانوں کے حوالے کیے گئے تو وہ ادھورے تھے۔ ان لاشوں سے گردے غائب تھے اور ان کے ساتھ نہ تو کوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ دی گئی اور نہ ہی کسی قسم کی جوابدہی کا حق دیا گیا۔ البرش نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ حقائق ڈاکٹروں کی شہادتوں اور ان دستاویزی کیسز پر مبنی ہیں جن میں شہداء کے جسمانی اعضاء غائب پائے گئے۔
منیر البرش نے واضح کیا کہ فلسطینی نہ تو علمِ طب کے مخالف ہیں اور نہ ہی اعضاء کے عطیات کے انسانی اصول کے خلاف ہیں، لیکن وہ انسانی اقدار کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنے اور زندہ یا شہید فلسطینیوں کے جسموں کو ایسے “کارناموں” کے لیے استعمال کرنے کے سخت خلاف ہیں جن کی دنیا بھر میں تشہیر کی جاتی ہے جبکہ حقیقت کو چھپایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت کا فقدان اور ان طبی آپریشنز پر کسی بھی قسم کی بین الاقوامی نگرانی کی روک تھام ان شکوک و شبہات کو جائز قرار دیتی ہے اور اب اس معاملے پر جوابدہی ایک اخلاقی اور قانونی فریضہ بن چکی ہے۔
منیر البرش نے اس بات پر زور دیا کہ اب ضرورت نئے ریکارڈ اعداد و شمار جمع کرنے کی نہیں بلکہ ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی ہے جو واضح طور پر یہ بتائے کہ ان اعضاء کے اصل ذرائع کیا ہیں، کن حلقوں نے اس کی اجازت دی اور اس سنگین جرم پر کون خاموش رہا، اور اس مجرمانہ خاموشی کا صلہ ان اعلانیہ کامیابیوں کی صورت میں کیوں دیا جا رہا ہے۔
