Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

عراد اور دیمونا پر ایرانی میزائل حملے، سیکڑوں صہیونی ہلاک و زخمی

دیمونا – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے زیر تسلط جنوبی علاقے نقب کے شہروں عراد اور دیمونا پر ایرانی میزائل گرنے کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ان حملوں سے آباد کاروں کی بستیوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کئی افراد ملبے تلے دبے یا لاپتہ ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب تہران نے “میزائل برتری” کا دعویٰ کرتے ہوئے مستقبل میں مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اطلاعات ملی ہیں کہ ایک میزائل کا وار ہیڈ عراد شہر کے رہائشی محلے پر براہ راست گرا جس سے ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے جبکہ کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور وسیع پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔

اس مقام پر 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے چار کو بے ہوشی کی حالت میں ملبے سے نکالا گیا ہے جبکہ کئی افراد کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق میزائل کے وار ہیڈ کا وزن 450 کلوگرام تھا جس نے نو عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

قابض اسرائیل کے امدادی دستوں نے اسے “بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا واقعہ” قرار دیتے ہوئے علاقے میں ایمبولینسوں اور ریسکیو ٹیموں کی اضافی نفری روانہ کر دی ہے۔

دیمونا شہر میں ایک میزائل گرنے سے عمارت گر گئی اور آگ لگنے کے نتیجے میں تقریباً 50 افراد زخمی ہوئے جبکہ میزائلوں کے براہ راست لگنے اور دفاعی نظام کے ذریعے انہیں فضا میں تباہ کرنے سے گرنے والے ٹکڑوں کے باعث 12 مقامات پر نقصانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

بئر السبع کے سوروقہ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جہاں عراد سے 68 زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے 10 کی حالت نازک اور 11 کی درمیانی بتائی جاتی ہے جبکہ دیگر کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ دیمونا کے علاقے میں 12 مقامات پر میزائل اور ٹکڑے گرنے سے نقصان ہوا جبکہ اسرائیلی ریڈیو نے تصدیق کی کہ ایرانی میزائل براہ راست لگنے سے ایک عمارت زمین بوس ہو گئی ہے۔

دوسری جانب قابض فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق عراد اور دیمونا کو نشانہ بنانے والے وہ میزائل جنہیں فضا میں روکا نہیں جا سکا وہ کسی نئے ماڈل کے نہیں تھے بلکہ غالب امکان ہے کہ انہیں ماضی کے ایرانی حملوں میں بھی استعمال کیا جا چکا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ مقبوضہ صحرائے نقب میں واقع اسرائیل کی اہم ترین جوہری تنصیب کے حامل شہر دیمونا پر میزائل حملہ ہفتے کے روز دشمن کی جانب سے نطنز جوہری تنصیب پر کی گئی بمباری کا جواب ہے۔

واضح رہے کہ قابض اسرائیل اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ابہام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور سرکاری طور پر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ دیمونا ری ایکٹر صرف تحقیقی مقاصد کے لیے ہے جبکہ وہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کی نہ تو تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تردید۔ تاہم سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اندازوں کے مطابق قابض اسرائیل کے پاس تقریباً 90 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے سربراہ مجید موسوی نے اسرائیلی فضاؤں میں ایران کی “میزائل برتری” کا اعلان کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک آنے والے دنوں میں “نئے میزائل سسٹم” استعمال کرے گا۔

مجید موسوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کا ملک امریکہ اور قابض اسرائیل کو “حیران” کر دے گا جو کہ حملوں کی شدت میں مزید اضافے کا اشارہ ہے۔

آج صبح ایران میں نطنز جوہری تنصیب کو امریکہ اور قابض اسرائیل کی جانب سے ایک نئے حملے کا نشانہ بنایا گیا جو کہ اس جارحیت کے آغاز سے اب تک ایرانی جوہری تنصیبات پر تیسرا حملہ ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ایرانی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران اب “آنکھ کے بدلے آنکھ” کے اصول سے آگے بڑھ کر ایسی حکمت عملی اپنا رہا ہے جس میں دشمن کو اس کی ہر معاندانہ کارروائی پر پہلے سے کہیں زیادہ بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ “دشمن اب یہ جان چکا ہے کہ اگر اس نے ایران کے اندر ایک تنصیب کو نشانہ بنایا تو اسے اپنی کئی تنصیبات پر جوابی وار سہنا پڑے گا اور اگر اس نے کسی ایک ریفائنری یا گیس کی تنصیب پر حملہ کیا تو اسے ویسے ہی کئی مراکز پر جوابی ضرب لگا کر سخت سبق سکھایا جائے گا”۔ ان کے مطابق ایران دشمن کی ہر غلطی کا جواب ایسے سرپرائز سے دیتا ہے جو اس کے مفادات کو جلا کر رکھ دیتا ہے۔

نطنز پر حملے کے بعد قابض فوج کے وزیر یسرائیل کاٹز نے آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف حملوں میں تیزی لانے کی دھمکی دی ہے جو کہ محاذ آرائی کے دائرہ کار میں وسعت کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ تمام تر تبدیلیاں 28 فروری سنہ 2026ء سے جاری اس بڑھتی ہوئی جنگ کا حصہ ہیں جو ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کی وسیع تر جارحیت کے بعد شروع ہوئی جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اہم قیادت کی ٹارگٹ کلنگ بھی شامل تھی جبکہ تہران جوابی طور پر اسرائیل کے اندر میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔

محاذ آرائی کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سکیورٹی اور عالمی توانائی کی فراہمی پر اس کشیدگی کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan