عباس ملیشیا کی قید میں بند 50 سالہ شیخ فیصل سبانا کے خاندان نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ شیخ فیصل کی صحت بہت بگڑی ہوئی ہے، وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہے اور اسے کسی بھی وقت دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔ شیخ فیصل کے خاندان والوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور شیخ فیصل کی زندگی بچانے میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے یہ اپیل بھی کی کہ وہ جنین کے گورنر اور سیکیورٹی چیف کو شیخ فیصل کی تندرستی و سلامتی کیلئے مکلف ٹھہرائیں۔ واضح رہے شیخ فیصل کو اسرائیلی انتظامیہ نے اغوا کیا تھا اور دوران ٹارچر ان کی صحت کافی بگڑ گئی تھی اور اس صورتحال کو مدنظر رکھ کر اسے بعد میں رہا کیا گیا۔ رہائی کے فوراََبعد انہیں مثانے کے آپریشن کے مراحل سے گذرنا پرا۔ لیکن اس مہینے کے شروع میں عباس ملیشیا نے انہیں دوبارہ اغوا کیا۔ شیخ فیصل جنین ضلع کے ایک معروف مصلح و مجتہد ہیں۔ وہ سات سال اسرائیلی جیلوں میں رہے ہیں اور صرف چالیس دن پہلے 30 ماہ کی نظر بندی کے بعد رہا کئے گئے تھے۔ اسی دوران اسرائیلی جیلوں میں محبوس کمیٹی کے رہنماوں نے فتح اور عباس ملیشیا کو شیخ میصل کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرنیکا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی زندگی کو کچھ ہوا تو وہ اس کے ذمہ دار ہونگے