Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

عالمی یومِ آب اور پیاسا غزہ، زندگی پانی کی تلاش میں سسکنے لگی

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جہاں ایک طرف دنیا “عالمی یومِ آب” کو پانی جیسی حیاتیاتی نعمت کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے منا رہی ہے، وہیں غزہ کی پٹی کے مکین ایک بالکل متضاد اور لرزہ خیز حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں پانی ایک بنیادی انسانی حق کے بجائے ایک سنگین روزمرہ بوجھ بن چکا ہے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی، سپلائی میں شدید قلت، آبی ذخائر کی آلودگی اور توانائی کے فقدان کے درمیان 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی زندگی کی تفصیلات اس عظیم المیے کو بے نقاب کرتی ہیں جو تاریخ کے پیچیدہ ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے۔

غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشاطی کیمپ میں ام احمد کے دن کا آغاز کسی بھی دوسری ضرورت سے پہلے پانی کی تلاش سے ہوتا ہے۔ پانچ بچوں کے ساتھ ایک خیمے میں مقیم اس بیوہ کے لیے پانی کے بغیر نہ کھانا ممکن ہے اور نہ ہی صفائی، جو کہ بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔ اپنے شوہر اور گھر کو کھو دینے کے بعد، وہ پلاسٹک کے برتن اٹھائے طویل مسافتیں طے کرتی ہیں اور گھنٹوں اس ٹینکر کا انتظار کرتی ہیں جو یا تو بہت دیر سے پہنچتا ہے یا سرے سے آتا ہی نہیں۔

بیماری اور پیاس کے درمیان

ام احمد بتاتی ہیں کہ انہیں جو پانی ملتا ہے وہ بمشکل پینے کے کام آتا ہے، جبکہ نہانا (خاص طور پر سردی کے ایام میں) ایک اضافی عذاب بن گیا ہے۔ اس کے لیے نہ صرف پانی بلکہ اسے گرم کرنے کے لیے لکڑیوں کا انتظام بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بچے ہفتے میں صرف ایک بار نہاتے ہیں اور وہ اسی استعمال شدہ پانی سے کپڑے دھونے کی کوشش کرتی ہیں۔

سب سے تکلیف دہ پہلو بیماری ہے۔ گذشتہ موسم گرما میں ان کے دو بچے آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ہیضے کا شکار ہو گئے۔ وہ کہتی ہیں: “پہلے ہمیں بمباری کا ڈر لگتا تھا، اب ہمیں پیاس سے ڈر لگتا ہے۔” یہ جملہ فلسطینیوں کی اس اذیت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جو براہِ راست موت کے خوف سے نکل کر اب اس سست رفتار موت کی طرف منتقل ہو چکی ہے جو روزمرہ زندگی کے ذرے ذرے کو نگل رہی ہے۔

قابض اسرائیل کے مسلسل دباؤ کے نتیجے میں غزہ میں پانی کا بحران محض خدمات کی کمی نہیں بلکہ ایک مرکب انسانی المیہ بن چکا ہے، جہاں غربت، بے روزگاری، محاصرہ اور سیاسی افق کی معدومی مل کر ایک ایسی دلدل بنا چکے ہیں جو شہریوں کی ہمت جواب دے رہی ہے اور ان کے بنیادی ترین حقوق غصب کر رہی ہے۔

غزہ کی پٹی کے شمالی علاقوں میں ابو خالد آلودہ کنویں کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، باوجود اس کے کہ وہ اس کے ہولناک خطرات سے واقف ہیں۔ وہ اس کا ذائقہ نمکین اور کڑوا بتاتے ہیں، لیکن پانی کے ٹینکروں کی عدم دستیابی اور میٹھے پانی کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے باعث ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ وہ اور ان کا خاندان مسلسل آنتوں کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں، مگر پھر بھی اسی زہریلے منبع پر انحصار جاری ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ “ہم جانتے ہیں کہ ہم بیماری پی رہے ہیں، لیکن کوئی دوسرا چارہ نہیں۔” نقل مکانی کرنے والوں کے علاقوں میں پانی کا بحران سیوریج کی تباہی کے ساتھ مل کر ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے، جہاں خیموں کے درمیان آلودہ پانی کے جوہڑ بن چکے ہیں اور فضا میں دم گھونٹ دینے والی تعفن پھیلی ہوئی ہے۔

اس حوالے سے ام محمد کہتی ہیں کہ ان کے بچے متبادل نہ ہونے کی وجہ سے انہی گندے جوہڑوں کے پاس کھیلتے ہیں، جس سے بیماریوں اور حشرات کے پھیلاؤ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ گرمیاں قریب آتے ہی پانی کی طلب بڑھے گی اور وسائل کی قلت اس اذیت کو مزید دوچند کر دے گی۔

وہ کہتی ہیں کہ “ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ زیادہ خطرناک کیا ہے: پیاس یا آلودگی؟ اس ماحول میں اور بچاؤ کے ذرائع کی عدم موجودگی میں، پانی اگر مل بھی جائے تو وہ زندگی کا نہیں بلکہ موت اور خطرے کا پیغام بن کر آتا ہے۔”

ایندھن کی قلت اور بجلی کے نرخ

پانی کا یہ سنگین بحران بجلی کی مکمل بندش سے جڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے گھروں کے پمپ نہیں چل پاتے اور پانی کا ذخیرہ کرنا ایک ناممکن چیلنج بن گیا ہے۔ چھوٹے واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی ایندھن کی قلت اور دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے اپنی استعداد کھو چکے ہیں۔

نوجوان محمد مقداد بتاتے ہیں کہ ان کا خاندان بمباری سے متاثرہ گھر کی چھت پر ٹینک بھرنے کے لیے ان پر منحصر ہے۔ محلے کے لوگ مل کر ایندھن کا انتظام کرتے ہیں تاکہ جنریٹر کے ذریعے دو تین دن میں ایک بار پانی کا پمپ چلایا جا سکے، لیکن یہ سب ایندھن کی دستیابی اور اس کی قیمت پر منحصر ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں: “پانی کا حصول ایک کٹھن روزانہ مشن بن گیا ہے۔ ہر خاندان اپنی باری کا انتظار کرتا ہے تاکہ ڈیڑھ گھنٹہ پائپ مل سکے اور 1000 لیٹر کا ٹینک بھرا جا سکے۔ اگر ہم کامیاب ہو جائیں تو ہم وہ خالی گیلن بھی بھرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اب ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔”

ایندھن کی قلت کے باعث بجلی کے ایک یونٹ (کلو واٹ) کی قیمت 2.5 شیکل سے بڑھ کر 20 سے 30 شیکل تک پہنچ چکی ہے، جو کہ عام شہری کی استطاعت سے کہیں باہر ہے۔ اس صورتحال نے ہسپتالوں سے لے کر واٹر نیٹ ورک تک ہر شعبے کو مفلوج کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اوچا (OCHA) اور بین الاقوامی طبی اداروں کے مطابق، پانی کے 77 فیصد مراکز شدید خطرات کی زد میں ہیں۔

خواتین اور لڑکیاں سب سے زیادہ متاثر

فلسطینی اتھارٹی برائے آب و ماحولیات نے متنبہ کیا ہے کہ اکتوبر سنہ 2023ء سے اکتوبر سنہ 2025ء تک جاری رہنے والی سفاکیت کے نتیجے میں ایک بے مثال آبی اور ماحولیاتی تباہی جنم لے چکی ہے۔

عالمی یومِ آب کے موقع پر جاری بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی خواتین اور لڑکیاں دن کے 6 سے 8 گھنٹے صرف پانی کی فراہمی کے لیے وقف کر دیتی ہیں، جس سے وہ تعلیم، تحفظ اور صحت کی رازداری سے محروم ہو رہی ہیں۔

بیان کے مطابق پانی اور سیوریج کے 85 فیصد مراکز تباہ ہو چکے ہیں۔ اکثر کنویں اور پلانٹس ناکارہ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں پانی کی پیداوار جنگ سے قبل کے 3 لاکھ مکعب میٹر روزانہ سے گر کر رواں سال کے آغاز تک صرف 1 لاکھ 20 ہزار مکعب میٹر رہ گئی ہے، یعنی 60 فیصد سے زائد کا خسارہ۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غزہ میں ایک فرد کو روزانہ صرف 3 سے 15 لیٹر پانی مل رہا ہے جو کہ زیادہ تر پینے کے قابل نہیں، جبکہ میٹھے پانی کی دستیابی صرف 2 لیٹر تک محدود ہے، جو کہ عالمی معیار کے مطابق ہنگامی حالات کے لیے درکار کم از کم مقدار سے بھی بہت کم ہے۔

سیوریج سسٹم کی 80 فیصد تباہی کے باعث گندہ پانی ماحول میں بہہ رہا ہے اور 25 ہزار سے زائد غیر قانونی گڑھے زیرِ زمین آبی ذخائر کو زہریلا بنا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے 80 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے۔

ادارہ آب نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ 23 لاکھ فلسطینیوں کو بچانے کے لیے فوری مداخلت کرے، ایندھن اور جنریٹر فراہم کرے، غزہ کے واحد بجلی گھر کو بحال کرے اور پانی کی صفائی کے مواد (کلورین وغیرہ) اور سپیئر پارٹس کی ترسیل کی اجازت دلوائے۔

بیان میں غزہ کو “آبی آفت زدہ علاقہ” قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ پانی ایک انسانی حق ہے اور شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو اس سے محروم رکھنا ایک “انسانیت سوز جرم” ہے جس پر عالمی کارروائی ناگزیر ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan