دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے مغربی ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل کا پرجوش دفاع کرنے اور غزہ میں نسل کشی کے مرتکبین کی شبیہ سفید کرنے کی کوششوں پر کھلے الفاظ میں معافی مانگیں۔
باسم نعیم نے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ خود قابض اسرائیل نے غزہ پٹی میں وزارت صحت کے ان اعداد و شمار کو تسلیم کیا ہے جن کے مطابق جنگ کے دوران غزہ کے لگ بھگ 70 ہزار شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اعداد و شمار میں وہ لاپتہ افراد شامل نہیں جو اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ مستند اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے لے کر گذشتہ روز تک قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے غزہ کے 71,667 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان اعداد و شمار کی تصدیق متعدد بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے اداروں نے بھی کی ہے۔
باسم نعیم نے کہا کہ غزہ پر مسلط کی گئی جنگ اور نسل کشی کے مہینوں کے دوران مغرب میں سیاسی منافقت کے آلے اور گمراہ کن پروپیگنڈا مشینری نے جن میں بی بی سی، سی این این، نیو یارک ٹائمز، فاکس نیوز اور دیگر بڑے میڈیا ادارے سر فہرست ہیں قابض اسرائیلی بیانیے کا اندھا دھند اور بے مثال دفاع کیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ادارے جنہوں نے نسل کشی کے مرتکبین پر پردہ ڈال کر اور ان کی شبیہ سفید کر کے اس جرم میں عملی طور پر حصہ لیا اب اس بات کے پابند ہیں کہ وہ واضح معافی مانگیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام صحافیوں اور کارکنوں کو دوبارہ بحال کریں جنہیں فلسطینی عوام کے حق میں اخلاقی مؤقف اختیار کرنے پر ملازمتوں سے نکالا گیا اور اپنے اس اقداری نظام کا سنجیدگی سے محاسبہ کریں جس کے تحت وہ آزادی، انسانی وقار اور انسانی حقوق کے عالمی دفاع کا دعویٰ کرتے ہیں۔
