غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے غزہ کی پٹی میں انسانی حالات کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید سردی اور موسمی دباؤ کے ساتھ حالات مزید سنگین ہو چکے ہیں۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی شہادتیں، شدید سردی اور تباہ شدہ عمارتوں کے منہدم ہونے سے قیمتی جانوں کا ضیاع اس انسانی المیے کے وسیع حجم کو نمایاں کرتا ہے، جو امداد اور بنیادی رہائشی سامان کی غزہ میں ترسیل روکنے کی قابض پالیسی کا براہ راست نتیجہ ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ پانچ فلسطینیوں کی شہادت، جن میں بچے بھی شامل ہیں، اس وقت پیش آئی جب بے گھر افراد پر تباہ شدہ عمارتیں آ گریں۔ یہ المیہ اس بڑھتے ہوئے سانحے کا حصہ ہے جس کی بنیادی وجہ قابض اسرائیل کی وہ دانستہ پالیسی ہے جس کے تحت عارضی مکانات، خیمے اور حرارت کے وسائل کی غزہ میں آمد کو روکا جا رہا ہے اور ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری آلات کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ اس کے باعث گرنے کے قریب عمارتیں مستقل خطرہ بن چکی ہیں جو شہریوں کی زندگیوں کو ہر لمحہ لاحق ہے۔
حماس نے نشاندہی کی کہ موسمی دباؤ کے ساتھ چلنے والی تیز آندھیوں نے بے گھر افراد کے خیمے اکھاڑ دیے اور ہزاروں خاندانوں کو دوبارہ دربدر کر دیا۔ تحریک نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر ہنگامی امداد داخل نہ کی گئی اور محاصرہ اور امداد و رہائش پر عائد پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں مزید جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔
حماس نے ان تمام حالات کی مکمل ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور اس کے ادارے غزہ میں شہریوں کے تحفظ اور جاری جرم کو روکنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو چکے ہیں، جب کہ انسانی امداد کی ترسیل بدستور روکی جا رہی ہے۔
بیان میں جنگ بندی معاہدے کے ضامن ممالک اور ثالثوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں اور قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ بغیر کسی قید کے فوری امداد غزہ میں داخل کی جا سکے اور انسانی پروٹوکول میں درج وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت کی جائے جس میں تعمیر نو کا عملی آغاز اور انسانی ضروریات کی تکمیل میں حائل تمام رکاوٹوں کا خاتمہ شامل ہے۔
حماس نے عرب اور اسلامی ممالک اور دنیا بھر کے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی یکجہتی کی سرگرمیوں میں اضافہ کریں اور قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے دباؤ بڑھائیں۔ ساتھ ہی رہائش، حرارت، ایندھن، طبی اور غذائی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ غزہ کے فلسطینیوں کو باعزت زندگی کا حق مل سکے اور بحالی اور تعمیر نو کا عمل شروع ہو سکے۔
موجودہ موسمی دباؤ کے باعث جنوبی غزہ اور شمالی علاقوں میں بے گھر افراد کے بیشتر خیمے تباہ ہو چکے ہیں، جس سے شدید سردی اور پناہ کی عدم دستیابی کے سبب مزید جانوں کے ضیاع کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
غزہ میں فلسطینی سماجی تنظیموں کے نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا نے کہا ہے کہ موسمی دباؤ کے آغاز کے بعد سے غزہ کی صورت حال بدترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ کے ساحلی علاقے میں تقریباً دس ہزار خاندان بارش اور تیز ہواؤں کے باعث ڈوبنے اور خیموں کے اڑ جانے جیسے حالات کا شکار ہوئے ہیں۔
امجد الشوا نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد کے بارے میں گمراہ کن دعوے کر رہا ہے اور طبی سامان اور بنیادی رہائشی ضروریات کی ترسیل روک رہا ہے، اس کے ساتھ بین الاقوامی تنظیموں کے کام میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سب اقدامات آبادی کے لیے شدید خطرہ پیدا کر رہے ہیں اور غزہ کے انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
