غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ غاصب اسرائیل کی سفاکانہ جنگ نے صرف عمارتوں کو ہی ملبے کا ڈھیر نہیں بنایا، بلکہ اب یہ فلسطینیوں کی رگوں سے خون اور جسموں سے روح نچوڑ رہی ہے۔ زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت، یعنی روٹی، جو ہر جاندار کا بنیادی حق ہے آج غزہ کے مظلوم باسیوں کے لیے ایک خواب بن چکی ہے۔ ورلڈ سینٹرل کچن کی جانب سے آئندہ جمعہ سے غزہ کی پٹی میں تمام کھانا پکانے کے آپریشنز معطل کرنے کا لرزہ خیز اعلان، فلسطینیوں پر ایک اور قیامت ڈھا گیا ہے۔ یہ وہ ہزاروں خاندان ہیں جو اس ہولناک جنگ کے آغاز سے ہی اپنی بقا اور روزمرہ کی خوراک کے لیے ان امدادی کھانوں کے سہارے جی رہے تھے۔ اب یہ سہارا بھی چھن گیا ہے، اور بھوک ایک بھوکے بھیڑیے کی طرح ان کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔
یہ محض اعداد و شمار نہیں کہ نومبر سنہ 2023ء سے اب تک 272 ملین سے زیادہ کھانے تقسیم کیے گئے، یہ ان لاکھوں انسانوں کی داستانِ حیات ہے جو غاصب دشمن کے محاصرے میں قدم قدم پر موت کی وادی کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ اب یہ فیصلہ فلسطینیوں کے لیے غذائی تحفظ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے، انہیں بھوک کے اس سمندر میں دھکیلتے ہوئے جہاں سے واپسی ممکن نظر نہیں آتی۔
اس رپورٹ میں مرکزاطلاعات فلسطین اس المناک منظرنامے کو پیش کیاہے جہاں بھوک ایک خاموش قاتل بن کر فلسطینیوں کے گھروں میں داخل ہو چکی ہے اور امدادی آپریشنز کی معطلی ان کی زندگی کی آخری کرن کو بھی بجھانے کے درپے ہے۔ یہ دنیا کے ضمیر کے لیے ایک سوال ہے کہ کیا انسانیت اس ظلم پر خاموش رہے گی؟
غاصب اسرائیل کی سفاکانہ رکاوٹیں: بھوک کی جنگ کا ایندھن
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے ورلڈ سینٹرل کچن (WCK) کی جانب سے اپنی انسانی خدمات معطل کرنے کے فیصلے پر خون کے آنسو بہاتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ یہ فیصلہ غاصب اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ شدید زمینی رکاوٹوں اور سفاکیت کا براہ راست نتیجہ ہے، جس کے تحت خوراک لانے والے ٹرکوں کی تعداد روزانہ 25 ٹرکوں سے کم کر کے محض 5 ٹرک کر دی گئی ہے۔ یہ دراصل فلسطینیوں کی نسل کشی کا ایک نیا، زیادہ سفاک ہتھکنڈا ہے۔
بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ کچن کو خام مال قابض اسرائیل کے اندر سے خریدنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ سامان مصر سے آنے والی کھیپوں کے ذریعے آتا تھا۔ اس غیر انسانی اقدام نے انسانی امداد کی نوعیت کو یکسر بدل دیا اور اس کی لاگت میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ یہ غاصب دشمن کی نسل کشی کی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو بھوک سے تڑپا تڑپا کر مارنا اور ان کی مزاحمت کو توڑنا ہے۔
یہ واضح کیا گیا کہ اگر امداد کی فراہمی پر عائد پابندیاں جاری رہیں تو غزہ کی پٹی ایک ہولناک انسانی بحران کے دہانے پر نہیں بلکہ اس میں پوری طرح دھنس چکی ہے۔ اس بحران کو روکنے کی تمام تر ذمہ داری قابض صہیونی ریاست پر عائد ہوتی ہے جو انسانی امداد کو محدود کر کے فلسطینیوں کی اجتماعی سزا کا مرتکب ہو رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
حکومتی دفتر نے تمام صحافیوں اور میڈیا کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اس فائل کو اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ اٹھائیں اور اس کے انسانی پہلوؤں کو متوازن انداز میں اجاگر کریں، جبکہ فلسطینی معاشرے کے اندر سنسنی خیزی یا خوف و ہراس پھیلانے سے گریز کریں۔ یہ وقت فلسطینیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا ہے، نہ کہ انہیں مزید اذیت دینے کا۔
کھانا صرف خوراک نہیں، بقا کا استعارہ تھا
مغربی غزہ شہر میں نقل مکانی کے ایک خیمے میں 42 سالہ ام محمد مقداد، پانچ بچوں کی ماں، بوجھل دل کے ساتھ، شکستہ آواز میں اپنی داستان سناتی ہیں “وہ کھانا جو ہمیں روزانہ ملتا تھا، صرف کھانا نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ دنیا میں کہیں کوئی مظلوموں کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ جب یہ کھانا ہمارے خیمے میں آتا تھا، تو میں جان جاتی تھی کہ آج کی رات میرے بچے بھوک سے روئے بغیر سکون سے سو جائیں گے۔”
وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر مزید کہتی ہیں “ہماری کوئی آمدنی نہیں ہے۔ میرے شوہر نے اپنی ملازمت کھو دی ہے، سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔ قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور سامان مل بھی جائے تو ہم خرید نہیں سکتے۔ اگر یہ کچن بھی بند ہو گیا تو ہم کیا کریں گے؟ کیا ہم پتھر کے زمانے میں واپس چلے جائیں گے؟ کیا ہمیں ایک روٹی کے ٹکڑے کو پانچ بچوں میں تقسیم کرنے کے اس دورِ جاہلیت پر واپس دھکیل دیا جائے گا؟” وہ ہچکچاتی آواز میں، جو دل چیر دیتی ہے، کہتی ہیں: “بھوک پیٹ میں ہونے سے پہلے نفسیاتی طور پر روح کو چیر دیتی ہے۔ یہ کل کے خوف سے شروع ہوتی ہے، اس خوف سے کہ میرے بچے بھوک سے بلکیں گے اور میں کچھ نہ کر سکوں گی۔”
ہم ہفتے کو کھانوں کی تعداد سے گنتے تھے
شمالی پٹی کے 55 سالہ ابو علاء الدیب جن کے چہرے پر بے بسی اور غم کی گہری لکیریں ہیں، کہتے ہیں کہ ان کا سات افراد کا خاندان بنیادی طور پر کچن کے کھانوں پر ہی انحصار کرتا تھا۔ ان کی آواز میں مایوسی کا ایک گہرا سمندر موجزن تھا۔
وہ کہتے ہیں “ہم ہفتے کو کھانوں کی تعداد سے گنتے تھے: سات کھانوں کا مطلب تھا کہ ہم کسی طرح ایک ہفتہ گزارا کر لیں گے۔ اگر ایک دن کی کمی ہو جاتی تو ہمیں محلے کی دکان سے قرض لینا پڑتا تھا۔ اگر یہ مکمل طور پر رک گیا، تو ہم قرض اور بھوک کے ایسے گرداب میں پھنس جائیں گے جہاں سے نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ تو زندگی نہیں، عذاب ہے”۔
وہ مزید کہتے ہیں “مارکیٹ میں سامان موجود ہے، لیکن قیمتیں ہماری استطاعت سے باہر ہیں۔ آٹے کا تھیلا اب ایک ایسا بوجھ ہے جسے اٹھانا ناممکن ہو چکا ہے، اور تیل ایک خواب بن گیا ہے۔ تیار کھانا ایک بڑی کمی کو پورا کر رہا تھا۔ اب ہم نہیں جانتے کہ ہم اس کی جگہ کیسے بھریں گے۔” ان کا چہرہ سوال کر رہا ہے کہ کیا کوئی سننے والا ہے؟
بچوں کے مستقبل کے بارے میں خوف
خان یونس میں 29 سالہ ہناء ابو نصر جو ایک شیر خوار بچی کی ماں ہیں، اپنی بچی کے معصوم چہرے کو دیکھتی ہوئی کہتی ہیں “میری بچی کو متوازن غذا کی ضرورت ہے۔ یہ کھانوں میں بعض اوقات سبزیاں یا پروٹین ہوتا تھا۔ یہ اس کی نشوونما کے لیے بہت اہم ہے۔ اگر تقسیم رک گئی تو ہم صرف چاول اور روٹی پر واپس آ جائیں گے اگر وہ دستیاب ہوئے۔” ان کی آواز میں خوف ہے، اپنے بچوں کے مستقبل کا خوف۔ وہ مزید کہتی ہیں: “مجھے ڈر ہے کہ میرے بچے بڑے ہو جائیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ امدادی کھانے کا انتظار کرنا ہی ان کی زندگی کا معمول ہے، کہ بھوک ان کا مقدر ہے اور کوئی انہیں بچانے والا نہیں!” یہ جملہ غزہ کے ہر ماں کی داستان ہے۔
