صومالی لینڈ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے وزیر خارجہ جدعون ساعر نے منگل کو غیرقانونی اور یکطرفہ طور پر اعلان شدہ ’صومالی لینڈ‘ کے علیحدگی پسند علاقے کا دورہ کیا، جو مشرقی افریقہ میں واقع ہے ۔ ساعر نے صومالی لینڈ کے نام نہاد غدار صدر سے ملاقات کی۔
ایک باخبر ذرائع نے تصدیق کی کہ وزیر خارجہ قابض اسرائیل واقعی ’صومالی لینڈ‘ میں موجود ہیں، تاہم اس دورے کے پروگرام یا اس کی مدت کے بارے میں کوئی اضافی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس ضمن میں قابض اسرائیل کی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی دورے کی تصدیق یا ردعمل نہیں دیا گیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قابض اسرائیل نے گذشتہ تقریباً دو ہفتے قبل ’صومالی لینڈ‘ کو بطور خود مختار ریاست رسمی طور پر تسلیم کیا، جسے عالمی سطح پر ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا گیا۔ تل ابیب واحد ایسی ریاست بن گئی ہے جس نے علیحدگی پسند صومالی علاقے کو تسلیم کیا ہے، ایک واضح بین الاقوامی غلط مثال قائم کی۔
متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل کی یہ شناخت ’قرن افریقہ‘ میں سیاسی اور سکیورٹی تبدیلیوں کے دروازے کھولتی ہے اور صومالی حکومت کے موقف کو براہِ راست چیلنج کرتی ہے، جو اپنے سرزمین کے اتحاد پر کسی بھی قسم کی مداخلت کو مسترد کرتی ہے۔ اس اقدام سے قابض اسرائیل کو بحرانی لحاظ سے حساس علاقے میں سیاسی و اسٹریٹجک قدم رکھنے کا موقع مل گیا ہے، جو دنیا کے اہم سمندری راستوں میں سے ایک کے کنارے واقع ہے اور افریقہ کے طویل ساحلی علاقے سے جڑا ہے۔
قابض اسرائیل کے اس غیر قانونی اقدام پر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی گئی ہے، عرب اور یورپی ممالک نے اس فیصلے کی سخت مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ خطے میں استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، نیز صومالی زمین کے اتحاد کو لاحق خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر موجودہ طویل عرصے سے جاری سکیورٹی اور سیاسی بحران کے تناظر میں۔
’صومالی لینڈ‘ 1991ء میں صومالی ریاست کے زوال اور ملک میں طویل خانہ جنگی کے بعد سے عملی طور پر خود مختار رہا ہے۔ اس دوران اس علاقے نے نسبتا استحکام قائم کیا اور مقامی ادارے تعمیر کیے، لیکن قابض اسرائیل کی حالیہ تسلیم سے پہلے اسے کسی بین الاقوامی ریاست کے طور پر رسمی شناخت حاصل نہیں تھی۔
