شمالی غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں اپنی ریزرو فورسز کے ایک فوجی کے شدید زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ اس کے بقول بندوق کی گولی کا بے قابو ہو جانا ہے۔
فوج نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ مذکورہ فوجی حادثاتی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوا اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس سے قبل قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ منگل کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی غزہ کے شہر رفح میں اس کی فوج اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس کے دوران دو افراد کو قتل کر دیا گیا۔
قابض اسرائیل کی فوج نے بدھ کے روز جنوبی اور شمالی غزہ میں حملوں کے ایک سلسلے کے دوران ایک فلسطینی کو شہید کیا اور تین دیگر کو زخمی کر دیا۔
طبی ذرائع نے خبر رساں ایجنسی انادولو کو بتایا کہ نرس حاتم ابو صالح کی میت خان یونس شہر میں واقع ناصر میڈیکل کمپلیکس پہنچی، جو قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں اس وقت شہید ہوئے جب بنی سہیلہ کے علاقے میں فوجی کنٹرول کے قریب انہیں نشانہ بنایا گیا۔
غزہ میں سیز فائر معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد گذشتہ دس اکتوبر کو شروع ہوا، جو قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ کے دو سال بعد ممکن ہوا۔ اس جنگ کے نتیجے میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے اور فلسطینی پٹی میں شہری انفراسٹرکچر کا بیشتر حصہ تباہ کر دیا گیا۔
تاہم اس کے باوجود قابض اسرائیل مسلسل اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، غزہ پر بار بار فضائی حملے کیے جا رہے ہیں اور انخلا کے لیے طے شدہ نکات میں تبدیلی کی جا رہی ہے، جسے یلو لائن کے نام سے جانا جاتا ہے، جبکہ غزہ کے عوام تک پہنچنے والی نہایت ضروری انسانی امداد پر بھی سخت پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں، جو قابض دشمن ریاست کی سفاکیت اور فلسطینیوں کے خلاف جاری اجتماعی سزا کی ایک اور واضح مثال ہے۔
