مقبوضہ القدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین میں یہودی آبادکاری کے امور سے وابستہ متعلقہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل نے نوآبادیاتی منصوبہ روڈ 45 پر عملی کام شروع کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ آئندہ ہفتوں میں بھاری بجٹ کے ساتھ اس منصوبے کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کیا گیا ہے جو شمالی القدس اور مشرقی رام اللہ میں قائم صہیونی کالونیوں کے الحاق کو مستحکم کرنے اور انہیں القدس شہر سے جوڑنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد مشرقی رام اللہ اور شمالی القدس میں قائم کالونیوں کو براہ راست نوآبادیاتی روڈ 443 سے منسلک کرنا ہے جو القدس اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں تک جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آبادکاروں کے سفر کا وقت کم ہو جائے گا اور انہیں مقبوضہ اندرونی شہروں سے براہ راست رابطہ فراہم کیا جائے گا۔
منصوبے کے مطابق تعمیراتی سرگرمیاں مقبوضہ شمال مشرقی القدس میں واقع گاؤں مخماس کی زمینوں پر قائم کالونی مخماس کے اطراف سے شروع ہوں گی جو مغرب کی جانب قلندیا چوکی کی سرنگ تک پھیلیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حزما فوجی چوکی سے لے کر مشرقی رام اللہ کے علاقے عیون الحرامیہ تک پھیلی متبادل سڑکوں کی وسیع پیمانے پر توسیع کی جائے گی۔ یہ تمام سڑکیں ایک مربوط نیٹ ورک کا حصہ ہوں گی جو کالونیوں کی خدمت کریں گی آبادکاری کے تسلط کو مضبوط بنائیں گی اور پورے علاقے کو الگ تھلگ جزیروں میں تبدیل کر دیں گی۔ یہ سب کچھ آبادیاتی اور جغرافیائی یہودیانے کی پالیسی کے تحت کیا جا رہا ہے۔
روڈ 45 منصوبہ ایک پرانے نقشے کا تسلسل ہے جو سنہ 1983ء سے چلا آ رہا ہے اور جسے فوجی حکم نامہ نمبر 50 برائےروڈز کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد فلسطینی آبادیوں کو ٹکڑوں میں بانٹنا انہیں متبادل سڑکوں کے پیچھے محصور کرنا اور کالونیوں کے بنیادی ڈھانچے کو قابض اسرائیل کے مرکزی نیٹ ورک میں ضم کرنا ہے تاکہ زمین پر عملی بالادستی مسلط کی جا سکے۔
گذشتہ برسوں کے دوران گاؤں جبع قلندیا کفر عقب الرام مخماس اور برقہ کے فلسطینی زمین مالکان کی جانب سے دائر کی گئی قانونی درخواستوں کو محض رسمی کارروائی سمجھا گیا جبکہ دوسری جانب منصوبہ بندی اور زمینی سطح پر کام بلا تعطل جاری رہا۔ بالخصوص قلندیا کی سرنگ میں تعمیراتی سرگرمیاں تیزی سے آگے بڑھائی گئیں تاکہ کسی بھی عدالتی فیصلے سے پہلے ہی نئے زمینی حقائق مسلط کر دیے جائیں اور فلسطینیوں کے حقوق کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا سکے۔
یہ منصوبہ ایک جامع آبادکاری وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد آمد و رفت کو آسان بنا کر سیکڑوں ہزار نئے آبادکاروں کو راغب کرنا ہے تاکہ وہ مغربی کنارے کے قلب میں سکونت اختیار کریں اور ساتھ ہی القدس شہر سے تیز رفتار رابطہ بھی برقرار رکھ سکیں۔
