غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں ماہ رمضان اب صرف عبادات اور سحر و افطار کے پرنور اجتماعات کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ قابض اسرائیل کی وحشیانہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پانی کے سنگین بحران کے باعث محصورین غزہ کے لیے اضافی مصائب کا پیغام لے کر آیا ہے۔ قابض اسرائیل کی سفاکیت اور شہری بنیادی ڈھانچے کی دانستہ تباہی نے ہزاروں فلسطینی خاندانوں کو زندگی کی بنیادی ترین ضرورت یعنی پانی کے حصول کے لیے روزانہ ایک نئی اور کٹھن جنگ لڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
سپیدہ سحر کے نمودار ہوتے ہی بڑی تعداد میں شہری خالی گیلن اٹھائے پانی کے کسی بھی ممکنہ ذریعے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی منزل یا تو محدود پیمانے پر چلنے والے وہ کنویں ہوتے ہیں جو اب تک دشمن کی بمباری سے بچے ہوئے ہیں یا پھر وہ واٹر ٹینکرز جو مختلف محلوں میں کبھی کبھار ہی دکھائی دیتے ہیں۔
بوند بوند کے لیے طویل قطاریں
غزہ کی تنگ گلیوں اور پناہ گزینوں کے خیموں کے گرد و نواح میں اب یہ منظر روز کا معمول بن چکا ہے کہ معصوم بچے اور بزرگ چند لیٹر پانی کے لیے طویل قطاروں میں گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ چند لیٹر پانی ان کے پورے دن کی ضرورت کے لیے بھی بمشکل کافی ہوتا ہے۔
یہ بحران محض پانی کی کمی کا نام نہیں بلکہ اس تک رسائی کو ایک ناممکن مشن بنا دیا گیا ہے۔ بجلی کی مکمل بندش اور قابض اسرائیل کی شدید بمباری سے پانی کی فراہمی کے نیٹ ورک اور اسٹوریج ٹینکوں کو پہنچنے والے نقصانات نے بلدیاتی اداروں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں۔ اب گھروں تک پانی کی فراہمی کا نیٹ ورک مفلوج ہو چکا ہے، جس کے باعث عوام مہنگے اور متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں جو ان کی ہمت سے باہر ہیں۔
مکروت واٹر لائن کی بندش اور بڑھتا ہوا انسانی المیہ
اسرائیلی کمپنی مکروت کی جانب سے پانی کی سپلائی لائن کی بندش نے اس انسانی المیے کو مزید ہولناک بنا دیا ہے۔ یہ لائن غزہ کو پانی فراہم کرنے والے اہم ترین ذرائع میں سے ایک تھی۔ اس کی بندش کے بعد اب تمام تر انحصار مقامی کنوؤں پر ہے، جو خود ایندھن کی شدید قلت اور تکنیکی خرابیوں کے باعث دم توڑ رہے ہیں۔
اس تلخ حقیقت نے گھروں اور پناہ گاہوں میں روزمرہ زندگی کو اجیرن کر دیا ہے۔ سحری و افطاری کے لیے کھانا پکانا، برتن دھونا یا ذاتی صفائی، ہر کام کے لیے پانی کے ایک ایک قطرے کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ مائیں مجبور ہیں کہ وہ دستیاب پانی کو صرف پینے اور کھانے کے لیے بچا کر رکھیں جبکہ بچوں کے نہانے اور کپڑے دھونے جیسے ضروری کاموں کو کئی کئی دن کے لیے ملتوی کر دیا جاتا ہے۔
درد و کرب کی داستانیں
رمضان کے مقدس مہینے میں سحر و افطار کی تیاری اب ایک انتہائی پیچیدہ اور صبر آزما مرحلہ بن چکی ہے۔ جبالیہ سے غزہ شہر کے مغرب کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہونے والی خاتون، ام محمد الفار نے مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خیموں میں زندگی گزارنے والوں کے لیے پانی کا حصول اب زندگی کا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم روزانہ میلوں مسافت طے کر کے خالی گیلن بھرنے جاتے ہیں۔ ہمیں پینے، وضو کرنے اور صفائی کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اکثر ہمیں واٹر ٹینکر کے انتظار میں پورا دن تپتی دھوپ میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بسا اوقات کئی کئی دن تک پانی نہیں پہنچتا اور ہمیں خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے، جس سے زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔
ایک فلسطینی شہری نبهان نے انکشاف کیا کہ میٹھے پانی کی شدید قلت کے باعث کئی خاندان مجبوراً سمندر کا نمکین پانی صفائی اور کپڑے دھونے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو کہ جلد کی بیماریوں اور دیگر طبی مسائل کا باعث بن رہا ہے۔
ہالہ الکحلوت نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی یہ قلت اب ایک نفسیاتی اذیت بن چکی ہے۔ ہر صبح ہمارا پہلا اور آخری خیال یہی ہوتا ہے کہ آج پانی کہاں سے ملے گا؟ کیا یہ آج کے افطار کے لیے کافی ہوگا؟ بچوں کے نہانے اور کپڑے دھونے کا کیا بنے گا؟ یہ سوالات ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
بلدیہ غزہ کا موقف
دوسری جانب بلدیہ غزہ نے تصدیق کی ہے کہ اس سنگین بحران کی اصل وجہ مکروت لائن سے پانی کی فراہمی کی دانستہ بندش اور قابض اسرائیل کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کی منظم تباہی ہے۔
بلدیہ کے حکام کے مطابق وہ شہر کے اندر 27 کنوؤں کو فعال رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ شہریوں کے نجی 1320 چھوٹے کنوؤں کے لیے بھی محدود وسائل میں رہتے ہوئے ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ بلدیہ نے نشاندہی کی کہ زیتون، شجاعیہ، تل الہوا، شارع الشوا، شارع یافا، پرانا شہر، جنوبی رمال اور حی الدرج سمیت متعدد علاقے اس وقت پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔
