غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں فلسطینی سول ڈیفنس نے بتایا کہ اس وقت غزہ کی پٹی میں سرگرم شدید موسمی دباؤ کے باعث بے گھر فلسطینیوں کےہزاروں خیمے اکھڑ گئے یا بری طرح متاثر ہوئے۔ ادارے نے واضح کیا کہ یہ سنگین صورتحال براہ راست قابض اسرائیل کی جانب سے تعمیراتی سامان کی آمد پر پابندی اور تعمیر نو کے عمل کو سبوتاژ کرنے کا نتیجہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں بارشوں اور طوفانی ہواؤں کے ساتھ ایک نیا موسمی دباؤ داخل ہوا جبکہ فلسطینی محکمہ موسمیات نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ آئندہ اوقات میں بعض علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا امکان برقرار ہے اور تیز ہوائیں چل سکتی ہیں جن کی رفتار بعض اوقات ساٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
فلسطینی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بیان میں کہا کہ موجودہ موسمی دباؤ نے عارضی رہائش کے تمام انتظامات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ہزاروں خیمے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں خیمے خصوصاً سمندر کے ساحل پر نصب خیمے تیز اور شدید ہواؤں کے باعث اڑ گئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض موسمی بحران نہیں بلکہ تعمیراتی سامان کی بندش اور تعمیر نو کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا براہ راست نتیجہ ہے۔ فلسطینی عوام پھٹے پرانے خیموں اور دراڑوں سے بھرے گھروں میں بغیر کسی تحفظ اور انسانی وقار کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ 10 اکتوبر سنہ 2023ء سے جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے باوجود قابض اسرائیل نے اس معاہدے میں درج اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کیا ہے جن میں خیموں اور موبائل گھروں کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے پانی اور نکاسی آب کے نظام کی تعمیر نو کے لیے تعمیراتی سامان کی اجازت شامل تھی جیسا کہ سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا موسمی دباؤ جو غزہ کی پٹی سے ٹکراتا ہے وہ قابض اسرائیل کے مسلط کردہ محاصرے کے باعث ایک حقیقی انسانی المیے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر مستحکم موسمی حالات اور کسی بھی قسم کے حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی میں ہزاروں خیموں کے مزید اڑ جانے کا شدید خطرہ ہے۔
ترجمان نے نشاندہی کی کہ شدید تباہی کے باعث شہری علاقوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے متعدد فلسطینی خاندانوں کو اپنے خیمے سمندر کے ساحل پر نصب کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
گذشتہ دسمبر کے اختتام پر غزہ کی پٹی میں آنے والے موسمی دباؤ کے دوران جنوبی غزہ میں خان یونس شہر کے ساحل پر قائم بے گھر فلسطینیوں کے سیکڑوں خیمے سمندری لہروں کے باعث زیر آب آ گئے تھے۔
اسی تناظر میں سول ڈیفنس کے ترجمان نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں ہزاروں مکانات ایسے ہیں جو کسی بھی وقت منہدم ہو سکتے ہیں اور یہ مکانات قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ کے نتیجے میں شدید متاثر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بارشوں اور تیز ہواؤں کے ساتھ دراڑیں اور جزوی منہدم ہونا بڑھ جاتا ہے جو شہریوں کی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ دسمبر سے اب تک غزہ کی پٹی میں آنے والے مختلف موسمی دباؤ کے دوران قابض اسرائیل کی سابقہ بمباری سے متاثر درجنوں رہائشی عمارتیں منہدم ہوئیں جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا۔
محمود بصل نے کہا کہ شہری پھٹے خیموں اور کمزور گھروں میں نہایت تباہ کن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں نہ تو سلامتی میسر ہے اور نہ ہی انسانی وقار کی کوئی علامت باقی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آج غزہ کی پٹی میں جو حالات ہیں وہ انسانی معیار کی کم سے کم سطح پر بھی پورا نہیں اترتے اور یہ انسانی اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ان موسمی دباؤ نے غزہ کی پٹی میں انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے جو جنگ کے خاتمے کے باوجود کسی واضح بہتری کا مشاہدہ نہیں کر سکا کیونکہ قابض اسرائیل مسلسل معاہدوں سے انحراف کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسی معاہدے کے تحت قابض اسرائیل کی جانب سے 8 اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع کی گئی نسل کش جنگ کا خاتمہ ہوا جو دو برس تک جاری رہی اور اس کے نتیجے میں اکہتر ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ اکہتر ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے جبکہ شہری بنیادی ڈھانچے کا نوے فیصد حصہ تباہ ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی تعمیر نو پر تقریباً ستر ارب ڈالر لاگت آئے گی۔
