(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) پیر کے روز شام اور قابض اسرائیل کے درمیان نئے مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جو امریکہ کی ثالثی اور ہم آہنگی سے منعقد ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد جاری کشیدگی کو کم کرنا اور سنہ 1974ء میں طے پانے والے افواج کی علیحدگی کے معاہدے کو دوبارہ نافذ کرنا ہے۔
مذاکرات کے اس دور میں عرب جمہوریہ شام کا ایک اعلیٰ سطحی وفد شریک ہے، جس کی قیادت وزیر خارجہ و تارکین وطن اسعد حسن الشیبانی کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ حسین السلامہ بھی شامل ہیں۔ یہ بات شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے حوالے سے ایک حکومتی ذریعے نے بتائی۔
حکومتی ذریعے کے مطابق ان مذاکرات کی بحالی اس بات کی توثیق ہے کہ شام اپنے ان قومی حقوق کی بازیابی کے لیے پرعزم ہے جو کسی بھی صورت سودے بازی کے قابلِ نہیں۔ ذریعے نے واضح کیا کہ بات چیت کا مرکزی محور افواج کی علیحدگی کے معاہدے کو دوبارہ فعال بنانا ہے، تاکہ قابض اسرائیل کی افواج کو آٹھ دسمبر سنہ 2024ء سے پہلے کی حد بندی تک واپس جانے پر مجبور کیا جا سکے۔
ذریعے نے مزید کہا کہ دمشق ایک ایسے منصفانہ اور متوازن سکیورٹی معاہدے کے حصول کی کوشش کر رہا ہے، جس میں مکمل شامی خود مختاری کو بنیادی حیثیت حاصل ہو اور شامی داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کا راستہ بند کیا جا سکے۔
اسی سلسلے میں ایک شامی عہدیدار نے خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ یہ مذاکرات پیرس میں امریکی ثالثی کے تحت ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق شام کا بنیادی مقصد سنہ 1974ء کے افواج کی علیحدگی کے معاہدے کو دوبارہ نافذ کرنا ہے، جس کے تحت ملک کے جنوب میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک بفر زون قائم کیا گیا تھا، اور اس علاقے سے قابض اسرائیل کی ان افواج کا انخلا یقینی بنانا ہے جنہوں نے ایک سال سے زائد عرصہ قبل اس پر قبضہ کر لیا تھا۔
یہ مذاکرات ایک نہایت پیچیدہ زمینی صورت حال کے پس منظر میں ہو رہے ہیں۔ قابض اسرائیل نے سابق شامی صدر بشار الاسد کی معزولی کے فوراً بعد اس بفر زون پر تیزی سے قبضہ جما لیا تھا۔ یہ پیش رفت ایک برق رفتار حملے کے بعد سامنے آئی، جس کی قیادت مسلح گروہوں نے موجودہ شامی صدر احمد الشرع کی سربراہی میں کی، جنہوں نے اس وقت قابض اسرائیل کے ساتھ کسی براہِ راست تصادم میں نہ پڑنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
اس کے باوجود قابض اسرائیل نے گذشتہ ایک برس کے دوران شام کے اندر فوجی مقامات اور عسکری تنصیبات پر اپنی فضائی بمباری میں نمایاں اضافہ کیا، جبکہ اس کی افواج نے بفر زون سے باہر واقع دیہات میں بارہا دراندازی کی۔ ان جارحانہ اقدامات کے نتیجے میں کئی مواقع پر مقامی آبادی کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ قابض اسرائیل ان کارروائیوں کو عارضی سکیورٹی اقدامات قرار دیتا ہے اور انہیں مبینہ خطرات کی روک تھام سے جوڑتا ہے، تاہم اس نے قریبی مستقبل میں انخلا کے کسی واضح ارادے کا اظہار نہیں کیا۔
موجودہ مذاکراتی دور میں شامی عہدیدار نے اس امر پر زور دیا کہ دمشق آٹھ دسمبر سنہ 2024ء سے پہلے کی محاذی حد بندی تک قابض اسرائیل کی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کرے گا، اور یہ تمام اقدامات ایک ایسے باہمی سکیورٹی فریم ورک کے تحت ہونے چاہئیں جو شامی خود مختاری کا احترام کرے اور بیرونی مداخلت کی ہر صورت کو روکے۔
ادھر قابض اسرائیل کی جانب سے ان مذاکرات پر تاحال کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا، جبکہ شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹوم برّاک کے ترجمان نے بھی اس حوالے سے کسی قسم کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔
