غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی وصہیونی جارحیت کے دوران سکولوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قابض دشمن کے اس رویے کا اعادہ ہے جو وہ غزہ میں نسل کشی کی جنگ کے دوران اپنائے ہوئے ہے۔
ایک اخباری بیان میں حازم قاسم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ غزہ میں نسل کشی کی جنگ کے دوران سینکڑوں سکولوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان میں موجود ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا تھا اس پر نام نہاد عالمی برادری کی شرمناک خاموشی ہی ایران میں ہونے والے واقعات پر خاموش رہنے کا اصل سبب اور باعثِ عار ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ایک تجزیے نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے پہلے دن سنہ 28 فروری کو جنوبی ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول پر ہونے والا حملہ اسی وقت ہوا جب امریکہ پاسداران انقلاب کے ایک قریبی بحری اڈے پر حملہ کر رہا تھا، جو سکول پر ہونے والے حملے کی امریکی ذمہ داری کے امکان کو تقویت دیتا ہے۔
ایرانی حکام اور ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حملے میں کم از کم 175 افراد شہید ہوئے، جن میں اکثریت ان بچوں کی تھی جو حملے کے وقت سکول میں موجود تھے۔
