Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

سوسیا میں یہودی آباد کاروں کا فلسطینی مکانات و گاڑیاں پر حملہ

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے میں الخلیل کے جنوبی علاقے مسافر یطا میں واقع گاؤں سوسیا میں غاصب یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کی رہائش گاہوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران ہونے والے اس نئے حملے کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے اور مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس وحشیانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے کے جنوب میں چرواہوں پر حملے اور نابلس میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم البیدر نے ایک بیان میں بتایا کہ غاصب آباد کاروں نے گاؤں پر دھاوا بولا اور پانچ رہائشی مکانات سمیت متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی جو مقامی فلسطینی شہریوں کی ملکیت تھیں۔ اس مجرمانہ فعل سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا اور نہتے شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں میں دہشت پھیل گئی۔

مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حملہ آوروں نے بعض گھروں کے اندر آنسو گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں دم گھٹنے سے چار فلسطینی زخمی ہو گئے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں یہودی آباد کاروں کو گاؤں پر حملہ کرتے اور املاک کو آگ لگاتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے نے بھی ایسی ہی تصاویر نشر کی ہیں جن میں نقاب پوش بلوائی سوسیا میں فلسطینیوں کے گھروں اور گاڑیوں کو جلاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

دہشت گردی اور راستوں کی بندش

مقبوضہ الخلیل گورنری کے دیگر علاقوں میں بھی یہ سفاکیت جاری رہی۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق غاصب آباد کاروں نے مسافر یطا کے علاقے خربہ اقواویس میں النعامین خاندان سے تعلق رکھنے والے چرواہوں کا پیچھا کیا اور انہیں ہراساں کیا۔ یہ کارروائیاں دیہی علاقوں میں فلسطینیوں کے وجود کو ختم کرنے کی ایک مسلسل کوشش ہے۔

یہودی آباد کاروں نے خرب الحلاوہ، المرکز اور التبان کے علاقوں میں فلسطینیوں کی رہائش گاہوں کے قریب اپنے مویشی چھوڑ دیے اور متعدد گھروں میں زبردستی گھس گئے۔ دوسری جانب الخلیل کے شمال میں وادی سعیر کے مقام پر غاصب اسرائیلی بستی اسفر کے قریب مسلح بلوائیوں نے جتھہ بندی کی اور راستہ بند کر کے فلسطینیوں کو بائی پاس روڈ پر جانے سے روک دیا۔

بیتا میں مزاحمت

مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں نابلس کے جنوبی قصبے بیتا میں واقع جبل بئر قوزا پر قابض آباد کاروں کے حملے کو درجنوں نوجوانوں نے دلیری سے ناکام بنا دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ میدانی سطح پر تصادم کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت غاصب آباد کاروں کی جانب سے جاری بے لگام سفاکیت کا حصہ ہے۔ گذشتہ جنوری کے دوران مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملوں کے تقریبا 468 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں جسمانی تشدد، درختوں کو اکھاڑنا، زرعی زمینوں کو آگ لگانا اور کسانوں کو ان کی زمینوں تک رسائی سے روکنا شامل ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کی سرزمین پر تعمیر کی گئی غیر قانونی بستیوں میں لگ بھگ سات لاکھ ستر ہزار غاصب اسرائیلی آباد کار مقیم ہیں جن میں سے تقریبا ڈھائی لاکھ مقبوضہ بیت المقدس میں رہائش پذیر ہیں۔ غزہ کی پٹی پر سات اکتوبر سنہ 2023 سے جاری نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں قابض افواج اور غاصب آباد کاروں کے حملوں میں تیزی آئی ہے جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1117 فلسطینی شہید اور ساڑھے گیارہ ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ اس دوران تقریبا 22 ہزار فلسطینیوں کو گرفتار کر کے قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ فلسطینی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اشتعال انگیزی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور مغربی کنارے کے حصوں کو غاصبانہ طور پر ضم کرنے کی گھناؤنی سازش کا حصہ ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan