Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

سفاکانہ جارحیت کے باعث غزہ میں شرح پیدائش میں نمایاں کمی

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں اب ایک نئے بچے کی پیدائش کا فیصلہ ماضی کی طرح کوئی معمولی بات نہیں رہی، بلکہ بے مثال طبی اور انسانی بحران کے سائے میں یہ عمل شدید بے چینی اور خطرات سے بھرپور ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔

قابض اسرائیل کی مسلسل جنگی تباہ کاریوں کے نتیجے میں طبی اور انسانی حقوق کی رپورٹس غزہ میں شرحِ پیدائش میں نمایاں کمی کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال طبی ڈھانچے کی تباہی، شدید غذائی قلت، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور فلسطینی خواتین پر طاری مسلسل ذہنی دباؤ کا براہ راست نتیجہ ہے۔

حالیہ طبی تخمینوں اور انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران غزہ کی پٹی میں شرحِ پیدائش میں تقریباً 41 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ تیز ترین گراوٹ اس گہرے اثر کو ظاہر کرتی ہے جو غاصب دشمن کی جنگ نے فلسطینیوں کی صحتِ افزائشِ نسل پر مرتب کیا ہے۔

طبی نظام کی تباہی

امراضِ نسواں و زچگی کے ماہر ڈاکٹر یاسر العقاد کہتے ہیں کہ نوزائیدہ بچوں کی تعداد میں کمی کا براہ راست تعلق صحت کی سہولیات، بالخصوص دورانِ حمل نگہداشت اور ماں کی صحت سے متعلق خدمات کی ابتری سے ہے۔

ہمارے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر العقاد نے وضاحت کی کہ خواتین اور زچگی کی خدمات فراہم کرنے والے متعدد ہسپتال اور طبی مراکز قابض اسرائیل کی بمباری کا نشانہ بنے یا سروس سے باہر ہو گئے، جس کے باعث حمل کی نگرانی یا اس سے جڑی پیچیدگیوں سے نمٹنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طبی عملہ اب بھی روزانہ کی بنیاد پر ایسے کیسز وصول کر رہا ہے جن میں حمل کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، یا اسقاطِ حمل ہو جاتا ہے، یا پھر ایسے بچے پیدا ہو رہے ہیں جو مختلف طبی مسائل کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شدید غذائی قلت، مسلسل ذہنی تناؤ اور نقل مکانی کے مراکز میں بیماریوں کا پھیلاؤ وہ عوامل ہیں جنہوں نے حاملہ خواتین کی صحت کو تباہ کرنے اور حمل سے جڑے خطرات کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اسقاطِ حمل اور قبل از وقت زچگی میں اضافہ

طبی اعداد و شمار غزہ کی پٹی میں سنگین ہوتے بحران کی عکاسی کر رہے ہیں، جہاں گذشتہ مہینوں کے دوران اسقاطِ حمل اور قبل از وقت زچگی کے ہزاروں کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔

طبی اداروں نے ان بچوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے جو کم وزن کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں یا جنہیں انکیوبٹرز (نرسری) میں انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے، جبکہ فعال ہسپتال آلات، ادویات اور طبی عملے کی شدید قلت کا شکار ہیں۔

ڈاکٹر العقاد اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جنگ کے بعد خواتین کی طبی حالت ماضی کے مقابلے میں یکسر بدل چکی ہے۔ بہت سی خواتین وٹامنز کی کمی، خون کی کمی (انیمیا) اور ہارمونز کی خرابی کا شکار ہیں، جو حمل کے ٹھہراؤ پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض کیسز میں شدید انفیکشن اور رحم کے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں، جس کے ساتھ ساتھ جنگ، نقل مکانی اور خاندان کے افراد کی شہادت سے پیدا ہونے والا نفسیاتی دباؤ بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔

مائیں خطرات کے نشانے پر

طبی ابتری کے ساتھ ساتھ، غزہ میں حاملہ خواتین کو انتہائی کٹھن معاشی و معاشرتی حالات کا سامنا ہے جو حمل اور زچگی کے تجربے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اداروں کے تخمینوں کے مطابق، جنگ کے دوران دسیوں ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں نقل مکانی پر مجبور ہوئیں، جبکہ پوری پٹی خوراک اور دوا کی شدید ترین قلت کا شکار ہے۔ انسانی ہمدردی کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ غزہ میں حمل کے ایک بڑے حصے کو اب ‘انتہائی پر خطر’ (High Risk) قرار دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ غذائی قلت، جسمانی و ذہنی تھکاوٹ اور باقاعدہ طبی معائنے کا فقدان ہے۔

اکثر اوقات خواتین کو گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے ہسپتالوں، یا پناہ گاہوں اور خیموں کے اندر انتہائی کسمپرسی میں بچوں کو جنم دینا پڑتا ہے، جس سے ماں اور بچے دونوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

خیموں کی زندگی

نقل مکانی کی زندگی نے حاملہ خواتین کے لیے اضافی چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر خیموں یا پرہجوم پناہ گاہوں میں رہائش کے باعث۔

یہ خیمے اکثر مناسب ہوا دار ماحول یا صاف پانی سے محروم ہوتے ہیں، جبکہ وہاں کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کی بھرمار ہوتی ہے، جو ماں یا نوزائیدہ بچے کی دیکھ بھال کے لیے کسی صورت موزوں نہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں بہت سے خاندان اب نئے بچے کی پیدائش کے بارے میں سوچنے سے کترانے لگے ہیں، کیونکہ وہ بنیادی ضروریات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ معاشی صورتحال بھی اس کمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جہاں غربت اور بے روزگاری کی شرح بے مثال سطح تک پہنچ چکی ہے، جس سے خوراک اور دوا کا حصول ایک روزانہ کی جنگ بن گیا ہے۔

ممکنہ آبادیاتی اثرات

ماہرین کا خیال ہے کہ ان حالات کا تسلسل غزہ کی پٹی کے معاشرے پر طویل مدتی آبادیاتی (Demographic) اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

جنگ کے دوران بڑی تعداد میں شہادتوں کے ساتھ ساتھ، شرحِ پیدائش میں کمی، اسقاطِ حمل اور قبل از وقت زچگی میں اضافہ مستقبل میں آبادی کے تناسب میں گہری تبدیلیاں لانے کا سبب بن رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر طبی نظام کی بحالی اور خواتین و بچوں کو ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے، تو افزائشِ نسل کے نظام کی تباہی اور انسانی بحران آنے والے برسوں میں ان اشاریوں کو مزید خوفناک بنا سکتے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan