نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) تشدد کے معاملات پر اقوام متحدہ کی خصوصی مندوب ایلس ایڈورڈز نے فلسطینی اسیران پر سزائے موت نافذ کرنے کی اجازت دینے والے قانون کی منظوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کے نظام پر اس کے خطرناک اثرات اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں بشمول تشدد کی مطلق ممانعت کے حوالے سے سخت خبردار کیا ہے۔
ایڈورڈز نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ سزائے موت کا نفاذ شاذ و نادر ہی ایسی ہولناک اذیت کے بغیر ہوتا ہے جو تشدد اور دیگر ظالمانہ یا غیر انسانی سلوک کی ممانعت کے منافی نہ ہو۔
عالمی عہدیدار نے متنبہ کیا کہ فوجداری قانون کے اطلاق میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تفریق ایک غیر قانونی خلاف ورزی تصور ہوگی اور یہ تشدد کے خطرات کو مزید بڑھا دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نسلی یا قومی بنیادوں پر یا سیاسی نظریات کی وجہ سے منتخب طریقے سے سزائے موت کا اطلاق کرنا دراصل بدترین قسم کا امتیازی سلوک ہے جو قانون کے سامنے برابری کی بنیادی ضمانتوں کو پامال کر دیتا ہے۔
ایڈورڈز نے ان خدشات کا اظہار بھی کیا کہ یہ نیا قانون قانونی کارروائی کی لازمی ضمانتوں کو کمزور کر دے گا جس سے غلط سزائیں سنائے جانے کے امکانات بڑھ جائیں گے خاص طور پر اگر ان کی بنیاد تشدد کے ذریعے لیے گئے اعترافات پر ہو۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایسے نظاموں میں سزائے موت کے دائرہ کار کو وسعت دینا جہاں تشدد کے الزامات بڑے پیمانے پر موجود ہوں ایک ایسا سنگین خطرہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں کیونکہ یہ مستقبل میں غلطیوں کی تصحیح کے تمام راستے بند کر دیتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ سزائے موت انسانی وقار کے منافی ہے اور اس کی ناقابل واپسی نوعیت کسی بھی غلطی کو تباہ کن بنا دیتی ہے۔
