Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

سخت پابندیوں کے باعث رفح کراسنگ سے مسافروں کی آمد و رفت شدید متاثر

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں گورنمنٹ میڈیا آفس نے بتایا ہے کہ رواں ماہ دو فروری سنہ 2026ء کو مصر کے ساتھ رفح بری کراسنگ کو محدود پیمانے اور سخت پابندیوں کے ساتھ دوبارہ کھولے جانے کے بعد سے اب تک 3400 مسافروں کی متوقع نقل و حرکت کے مقابلے میں محض 1148 فلسطینی مسافروں نے سرحد کے دونوں اطراف آمد و رفت کے لیے اس کا استعمال کیا ہے۔

میڈیا آفس نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا ہے کہ دو فروری سے 18 فروری سنہ 2026ء کے درمیان مسافروں کی کل تعداد 1148 رہی، جن میں سے 640 افراد بیرون ملک روانہ ہوئے اور 508 غزہ واپس لوٹے، جبکہ 26 افراد کو روانگی کے وقت بغیر کسی وجہ بتائے واپس بھیج دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آمد و رفت کرنے والے مسافروں کی مجموعی تعداد 1148 ہے، جبکہ 3400 مسافروں کو رفح بارڈر سے گزرنا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ مفاہمتوں پر (قابض اسرائیل کی جانب سے) عملدرآمد کی شرح صرف 33 فیصد رہی۔

میڈیا آفس نے ان مسافروں کی کل تعداد کے تعین کے حوالے سے کسی خاص ماخذ کا ذکر نہیں کیا جنہیں رفح سے گزرنا تھا۔ تاہم عبرانی اور مصری میڈیا میں زیر گردش مفاہمتوں کے مطابق یہ توقع کی جا رہی تھی کہ یومیہ 50 فلسطینی غزہ میں داخل ہوں گے اور 50 مریض اپنے دو دو تیمارداروں کے ہمراہ علاج کے لیے مصر روانہ ہوں گے۔

واضح رہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے دو فروری سنہ 2026ءکو بارڈر کے اس فلسطینی حصے کو انتہائی محدود پیمانے اور کڑی شرائط کے ساتھ دوبارہ کھولا تھا جس پر اس نے مئی سنہ 2024ء غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔

غزہ میں فلسطینی ذرائع کے تخمینے کے مطابق قابض اسرائیل کی جانب سے جاری نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں تباہ حال نظامِ صحت کے باعث اس وقت 22 ہزار زخمی اور مریض علاج کے لیے غزہ سے باہر جانے کے ضرورت مند ہیں۔

نیم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 80 ہزار فلسطینیوں نے غزہ واپسی کے لیے اپنے نام درج کروائے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فلسطینی عوام اسرائیلی تباہ کاریوں کے باوجود جبری بے دخلی کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر واپسی کے لیے پرعزم ہیں۔

قابض اسرائیل کی مسلط کردہ اس نسل کشی کی جنگ سے قبل، روزانہ سینکڑوں فلسطینی رفح بارڈر کے ذریعے مصر جاتے تھے اور اتنی ہی تعداد میں واپس آتے تھے۔ اس وقت بارڈر کا انتظام غزہ میں وزارتِ داخلہ اور مصری حکام کے پاس تھا اور اس میں قابض اسرائیل کی کوئی مداخلت نہیں تھی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan