غزہ کی پٹی میں اسماعیل ھنیہ کی نگرانی میں قائم فلسطینی حکومت نے جنرل اسمبلی میں فلسطینی اتھارٹی کے مستقل مندوب ریاض منصور کے اس بیان پرشدید تنقید کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران فلسطینیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا امکان موجود ہے۔ غزہ میں حکومت کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت کے ترجمان طاہر نونو نے کہا کہ ریاض منصور کا بیان اسرائیل کے جنگی جرائم سے متعلق گولڈ سٹون کی رپورٹ پر بحث رکوانے سے زیادہ خطرناک ہے۔ جنرل اسمبلی میں فلسطینی اتھارٹی کے مندوب جھوٹ کی سیاست کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے بجائے اسرائیل کا دفاع کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ریاض منصور نے متنازعہ بیان دے کراسرائیل کے غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے اور وہ امریکا اور اسرائیل کے ایما پر گولڈ سٹون کی رپورٹ پر کارروائی میں رکاوٹیں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ طاہر نونو نے کہا کہ عالمی ادارے میں کسی بھی فلسطینی راہنما کی جانب سے اس نوعیت بیان پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے جس میں ظلم کا شکار فلسطینیوں پر الزام عائد کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے دوران نہتے شہریوں نے اسرائیلی فوج کے خلاف جنگی جرائم کیے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے اہلکاروں کی جانب سے عالمی سطح پراسرائیلی جنگی جرائم کی پردہ پوشی کی مہم نہایت خطرناک اور فلسطینی عوام سے دشمنی کا ثبوت ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ فلسطینی مندوبین عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے مفادات کے بجائے اسرائیلی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں، انہیں یہ حق نہیں کہ وہ فلسطینی سفیر کے طور پر قوم کی نمائندگی کر سکیں۔ طاہر نونو نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ اقوام متحدہ میں جنگی جرائم سے متعلق عالمی ادارے کی رپورٹ پر بحث کی کوششیں ہو رہی ہیں فلسطینی نمائندگان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اسرائیلی جنگی جرائم ثابت کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی نے غزہ جنگ کے دوران انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کیں جبکہ فلسطینی اتھارٹی انہیں تحفظ فراہم کر کے انسانی حقوق کی پامالی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کے بجائے اصل مجرموں کو بے نقاب کرکے انہیں کٹہرے میں لانےکے لیے اقدامات کرے بصورت دیگر ایسے افراد کو فلسطینی نمائندگی کا حق نہیں جواسرائیل کےسفیر کا کردار ادا کررہے ہیں۔