تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے آج اتوار کی علی الصبح امریکہ اور غاصب اسرائیل کی جانب سے ملک پر کیے گئے وحشیانہ اور بزدلانہ حملوں کے نتیجے میں رہبرِ انقلاب اسلامی علی آیت اللہ عظمیٰ خامنہ ای کی شہادت کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ قابض فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر اسرائیلی امریکی جارحانہ جنگ کی پہلی ضرب میں 25 اعلیٰ حکام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘ارنا’ کے مطابق ایران کے دفاعی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی ایرانی حدود میں مقامات کو نشانہ بنانے والی غارت گری کے نتیجے میں شہید ہو گئے ہیں، تاہم نشانہ بننے والے مقامات کی مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ نے بتایا کہ علی خامنہ ای کو ہفتے کی صبح حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی ان کے دفتر میں نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ ایرانی حکومت نے ملک میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی سرکاری تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے سخت ترین جواب دینے کی دھمکی دیتے ہوئے اس بزدلانہ کارروائی کو دینی، اخلاقی اور قانونی حدود کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ اور غاصب اسرائیل پر عائد کی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ‘انتقام کا ہاتھ ہمیشہ دراز رہے گا’ اور مسلح افواج اپنے قائد کے نقشِ قدم پر چلتی رہیں گی، نیز کسی بھی داخلی یا خارجی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حملوں میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اس آپریشن کو ایرانی عوام کے لیے ایک تاریخی موقع قرار دیا تھا۔
علی خامنہ ای سنہ 1989ء سے رہبرِ اعلیٰ کے عہدے پر فائز تھے اور ایران کے سیاسی و مذہبی ڈھانچے کی سب سے اہم شخصیت تصور کیے جاتے تھے، اس سے قبل وہ سنہ 1981ء سے سنہ 1989ء تک صدرِ جمہوریہ بھی رہے۔
ان کا نام سنہ 1979ء کے اسلامی انقلاب سے وابستہ رہا ہے، وہ جون سنہ 1989ء میں روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد ان کے جانشین مقرر ہوئے تھے۔
ایرانی عوام کے لیے انصاف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اس کارروائی کے بارے میں لکھا کہ علی خامنہ ای کی ہلاکت ایرانی عوام، امریکیوں اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے انصاف کی فراہمی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جدید ترین انٹیلی جنس اور ٹریکنگ سسٹم سے بچ نہیں سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن غاصب اسرائیل کے ساتھ قریبی ہم آہنگی سے انجام دیا گیا اور مارے جانے والے دیگر رہنما کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے۔ ٹرمپ نے ایرانیوں کو اپنا ملک واپس لینے کی دعوت دیتے ہوئے اسے ایک بڑا موقع قرار دیا۔
دوسری جانب قابض صہیونی ریاست کے درندہ صفت وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ہفتے کی شام ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ قابض فوج نے ابتدائی حملے میں تہران میں علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کو تباہ کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ غاصب اسرائیل کی تباہی کا کئی دہائیوں پر محیط منصوبہ اب ختم ہو چکا ہے۔
بنجمن نیتن یاھو نے دھمکی دی کہ یہ آپریشن ضرورت کے مطابق جاری رہے گا اور اگلے مرحلے میں ایران میں ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا، انہوں نے پاسدارانِ انقلاب اور جوہری پروگرام سے وابستہ اعلیٰ حکام کی ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا۔
اہم سکیورٹی رہنماؤں کی شہادت
قابض فوج کے ترجمان نے ہفتہ کی شام پریس کانفرنس میں بتایا کہ فضائیہ کے حملوں میں ایرانی نظام کی اعلیٰ سکیورٹی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
فوجی ترجمان کے مطابق انٹیلی جنس کی ہدایت پر سینکڑوں جنگی طیاروں نے ایران بھر میں حملے کیے، آپریشن کا آغاز تہران میں ان دو مقامات پر اچانک ضرب لگا کر کیا گیا جہاں سکیورٹی نظام کے اعلیٰ ترین قائدین موجود تھے۔
قابض فوج کے دعوے کے مطابق ان حملوں میں درج ذیل شخصیات کو نشانہ بنایا گیا:
علی شمخانی: جو دفاعی کونسل کے سیکرٹری اور رہبرِ اعلیٰ کے سکیورٹی مشیر تھے۔
محمد پاکپور: پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، جن کے بارے میں قابض فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ غاصب اسرائیل کے خلاف سٹریٹیجک کارروائیوں اور مزاحمتی تنظیموں کی مدد کے ذمہ دار تھے۔
صلاح اسدی: ایرانی ایمرجنسی کمانڈ میں انٹیلی جنس ڈویژن کے سربراہ۔
محمد شیرازی: سنہ 1989ء سے رہبرِ اعلیٰ کے ملٹری آفس کے سربراہ اور مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کے ذمہ دار۔
عزیز نصیر زادہ: جو وزیر دفاع اور فضائیہ کے سابق سربراہ رہے، قابض فوج نے ان پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کا الزام لگایا۔
حسین جبل عاملیان: سینڈ (SIND) نامی تنظیم کے سربراہ جو جدید فوجی ٹیکنالوجی تیار کرتی ہے۔
رضا مظفری نیا: مذکورہ تنظیم کے سابق سربراہ جن پر جوہری صلاحیتوں کی ترقی کا الزام لگایا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی فضائیہ امریکی فوج کے تعاون اور درست انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایران میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اخبار ‘یدیعوت احرونوت’ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی حملوں میں کم از کم 25 اعلیٰ حکام شہید ہوئے ہیں، جسے ایرانی نظام کی اعلیٰ قیادت پر ایک مرکوز حملہ قرار دیا گیا ہے۔
تہران کی جانب سے ابھی تک ان اعداد و شمار کی باقاعدہ تصدیق یا تردید جاری نہیں کی گئی۔
