Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

رہا شدہ فلسطینی اسیران جلاوطنی کی اذیت میں مبتلا

قاہرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اسیران کے قائد اور جبری طور پر جلا وطن نائل البرغوثی نے کہا ہے کہ رہا شدہ اسیران کے خلاف جلاوطنی کا معاملہ تاحال کھلا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تقریباً 180 آزاد اسیر اس وقت مصری سرزمین پر جلا وطنی کی زندگی جینے پر مجبور ہیں جہاں کسی واضح حل کے بغیر وہ نہایت کٹھن انسانی حالات سے دوچار ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

نائل البرغوثی نے نشاندہی کی کہ مصر میں موجود سابق اسیران کو اپنی بیوی بچوں اور خاندانوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی جو خاندانی اتحاد کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک نے وطن سے باہر بے دخل کیے گئے سابق اسیران کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے باعث یہ اسیر آزادی کے باوجود ایک تلخ اور کربناک انسانی حقیقت کے قیدی بنے ہوئے ہیں۔

البرغوثی نے کہا کہ قابض اسرائیل سابق اسیران کے خلاف انتقامی اقدامات کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قابض حکام اب تک ان کی اہلیہ ایمان نافع کو سفر کی اجازت دینے اور ان سے ملاقات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جو ایک ایسی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد نفسیاتی اور خاندانی سزا کو طول دینا ہے۔

انہوں نے ان پالیسیوں کو اسیران کی مسلسل اذیت کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل حقیقی آزادی کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ رہائی کو بھی تکلیف ،محرومی اور اذیت کی ایک نئی شکل میں بدل دیتا ہے۔

نائل البرغوثی نے خبردار کیا کہ جلا وطن اسیر انتہائی مشکل انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جن میں عدم استحکام، مستقل بے چینی م،ستقبل کی غیر یقینی کیفیت اور اہل خانہ اور وطن سے جبری دوری کے باعث شدید نفسیاتی اور سماجی دباؤ شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ترکیہ پہنچنے والے سابق اسیران کی تعداد تقریباً 60 ہو چکی ہے اور گذشتہ دنوں ایک تازہ قافلہ پہنچا جس میں 10 مزید اسیر شامل تھے جو رہائی کے لمحے سے ہی قابض اسرائیل کی مسلط کردہ طویل اذیت سے گزر کر یہاں پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ ان قافلوں کی آمد پیچیدہ انتظامات کے تحت ممکن ہوئی کیونکہ جبری جلاوطنی کے فیصلے نے رہا ہونے ولے فلسطینیوں کو اپنے گھروں کو لوٹنے اور اپنے خاندانوں کے درمیان معمول کی زندگی گزارنے کے حق سے محروم کر دیا۔

البرغوثی نے زور دے کر کہا کہ جلا وطن اسیران کے ساتھ ہونے والا سلوک اجتماعی سزا کی اس پالیسی کا حصہ ہے جو قابض اسرائیل پورے فلسطینی عوام کے خلاف نافذ کیے ہوئے ہے اور یہ کوئی انفرادی یا استثنائی معاملہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس قوم کا حصہ ہیں جو روزانہ قابض اسرائیل کا سامنا کر رہی ہے اور جو اذیتیں ہم برداشت کر رہے ہیں وہ ان عظیم قربانیوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں جو ہمارے عوام غزہ اور مغربی کنارے میں مسلسل صبر اور استقامت کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔

عمید الاسریٰ نے عالمی انسانی حقوق اور فلاحی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کریں اور فوری طور پر جلاوطنی کی پالیسی کے خاتمے اور آزاد اسیران کے بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے عملی اقدام کریں۔

انہوں نے عرب اور اسلامی دنیا سے بھی مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی تاکہ مبعد اسیران کے لیے فوری انسانی حل تلاش کیے جائیں انہیں باعزت رہائش فراہم کی جائے اور بالآخر انہیں اپنے وطن واپسی یا خاندانوں سے ملاپ کا حق دیا جا سکے۔

نائل البرغوثی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسیران کا مسئلہ قومی شعور میں زندہ رہے گا اور آزادی کی جدوجہد محض رہائی پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس وقت مکمل ہوتی ہے جب قبضہ ختم ہو اور جلاوطنی محرومی اور سفاکیت پر مبنی تمام پالیسیاں دم توڑ دیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan