مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر کے مسلمان ماہِ صیام کے آخری عشرے کی پرنور ساعتوں، اعتکاف کی تنہائیوں اور لیلۃ القدر کی برکتوں کے استقبال کی تڑپ سینوں میں بسائے ہوئے ہیں، غاصب صہیونی دشمن نے فلسطین کے مقدس ترین مقامات پر ظلم و ستم اور ناکہ بندی کا آہنی حصار مزید تنگ کر دیا ہے۔ قابض اسرائیل نے بیت المقدس میں واقع قبلہ اول مسجد اقصیٰ اور الخلیل کی تاریخی مسجد ابراہیمی کے خلاف سنگین ترین تادیبی اقدامات کرتے ہوئے ہزاروں عشاقِ حرم کو ان مبارک راتوں میں سجدہ ریزی کی سعادت سے محروم کر دیا ہے۔
یہ سفاکانہ اقدامات ان ایام میں سامنے آئے ہیں جب عام طور پر ان دونوں مقدس مساجد کے در و دیوار دسیوں ہزار فرزندانِ توحید کی تکبیروں، تلاوتِ قرآن اور گریہ و زاری سے گونج اٹھتے تھے۔ تاہم اس سال قابض اسرائیل کی وحشیانہ فوجی رکاوٹوں، چیک پوسٹوں اور مکمل ناکہ بندی نے فلسطینیوں کے قدم ان کے اپنے ہی مقدسات تک پہنچنے سے روک دیے ہیں۔ اس سنگین صورتحال نے نہ صرف فلسطینیوں بلکہ پورے عالمِ اسلام میں شدید رنج و غم اور غصے کی لہر دوڑادی ہے۔
القدس اور الخلیل کے امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غاصب دشمن کا یہ رویہ آزادیِ عبادت کی کھلی توہین اور اس نسل کش صہیونی پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد اسلامی مقدسات کی پہچان مٹانا اور مسلمانوں کی وہاں موجودگی کو ختم کرنا ہے، خاص طور پر ان روحانی موسموں میں جب فلسطینیوں کا سمندر ان مساجد کی جانب امنڈتا ہے۔
مسجد اقصیٰ کے دروازے مقفل
امورِ قدس کے ممتاز محقق حسن خاطر نے اپنے دردمندانہ بیان میں کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ یہ ظالمانہ پابندیاں اور شہرِ قدس کی سنگین ناکہ بندی ہزاروں سجدہ گزاروں کو رمضان المبارک کے اس آخری اور قیمتی عشرے کی برکات سے دور کر دے گی۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حسن خاطر نے انکشاف کیا کہ قابض اسرائیلی حکام نے قدس کے داخلی راستوں اور قدیمی شہر کے کوچوں کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ المسجد اقصیٰ کو عملاً نمازیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جس کا المناک پہلو یہ ہے کہ ہزاروں فلسطینی اس بار اعتکاف کی ان مقدس ساعتوں سے محروم رہیں گے جو ان کے ایمان اور بقا کی علامت ہیں۔
انہوں نے جذباتی انداز میں اس حقیقت پر زور دیا کہ المسجد اقصیٰ ہر سال ان راتوں میں ایمانی جوش و جذبے کا مرکز بنتی تھی جہاں دور دراز سے لوگ لیلۃ القدر کی تلاش میں دیوانہ وار چلے آتے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سال کی یہ رکاوٹیں دراصل اس مذموم صہیونی سازش کا حصہ ہیں جس کے ذریعے وہ قبلہ اول میں ایک نیا جابرانہ نقشہ مسلط کرنا اور اسلامی شناخت کو مٹانا چاہتا ہے۔
حسن خاطر نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو جھنجھوڑتے ہوئے اپیل کی کہ وہ ان مظالم کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ المسجد اقصیٰ صرف اور صرف مسلمانوں کا ابدی حق ہے اور دشمن کی یہ سفاکیت فلسطینیوں کے دلوں سے اپنے مقدسات کی محبت کبھی کم نہیں کر سکے گی۔
حصار کے بعد مسجد ابراہیمی کی مکمل بندش
مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر حفظی ابو سنینہ نے دل گرفتہ آواز میں کہا ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں غاصب دشمن کی جانب سے مسجد کی تالہ بندی ہزاروں نمازیوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ وہ اسے فلسطین کے ایک عظیم روحانی مرکز پر صہیونی جارحیت کا بدترین نمونہ قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قابض افواج نے مسجد ابراہیمی کے دروازے نمازیوں پر بند کر کے وہاں سنگین فوجی حصار قائم کر دیا ہے، جس کے باعث مسجد کے محراب و منبر ویران ہو کر رہ گئے ہیں اور رمضان کے مبارک شعائر معطل کر دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ رکاوٹیں محض اس لیے کھڑی کی گئی ہیں تاکہ فلسطینیوں کو ان کے پروردگار کے حضور جھکنے سے روکا جا سکے۔ حفظی ابو سنینہ نے اس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کیا کہ ان بابرکت ایام میں الخلیل اور مغربی کنارے کے اطراف و اکناف سے ہزاروں سرفروش مسجد ابراہیمی کا رخ کرتے تھے، مگر دشمن کی بندوقوں اور رکاوٹوں نے ان کی راہ کھوٹی کر دی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فوجی پابندیوں کی شدت کا یہ عالم ہے کہ مسجد کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ بھی وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے پکارا کہ مسجد ابراہیمی کی یہ تالہ بندی بین الاقوامی قوانین اور انسانی اخلاقیات کی تذلیل ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تاکہ دشمن کے ہاتھ روکے جا سکیں اور مسلمانوں کو ان کے قبلہ و کعبہ اور مساجد میں آزادی سے عبادت کرنے کا حق مل سکے۔
