Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

رام اللہ

رمضان المبارک میں عقوبت خانوں میں فلسطینی خواتین پر شدید ظلم جاری

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسیران میڈیا آفس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لگ بھگ 70 فلسطینی خواتین اسیرات ماہِ رمضان المبارک الدامون نامی قابض اسرائیلی عقوبت خانے میں انتہائی کٹھن حالات اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کے سائے میں گزار رہی ہیں، جن میں 24 مائیں بھی شامل ہیں۔

میڈیا آفس نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ ان اسیرات کے خاندان اس مبارک مہینے کا استقبال دسترخوان پر خالی کرسیوں اور اپنوں کی جدائی کے گہرے دکھ کے ساتھ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب جیلوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے اہل خانہ کی ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے اور وکلاء کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ اکثر اسیرات کو محض سوشل میڈیا پر حق کی آواز بلند کرنے اور نام نہاد اشتعال انگیزی کے الزامات کے تحت قید کیا گیا ہے، جن میں خواتین صحافی، یونیورسٹی کی طالبات اور کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

بیان میں دس سالہ معصوم بچی ایلیاء ملیطاط کے دکھ کا بھی تذکرہ کیا گیا جو اس رمضان اپنے والدین سے دور ہے، کیونکہ اس کے والدین کو قا بض اسرائیل نے انتظامی طور پر حراست میں لے رکھا ہے۔ وہ بچی افطاری کے دسترخوان پر اپنے والدین کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے وکلاء کے ذریعے ان کی خیریت کی خبروں کی منتظر ہے۔

میڈیا آفس نے حال ہی میں رہا ہونے والی اسیرات کی شہادتوں کو بھی قلمبند کیا ہے، جنہوں نے تصدیق کی کہ جیل انتظامیہ رمضان کے اوقات کار اندر لے جانے سے روکتی ہے تاکہ اسیرات کو مہینے کے آغاز تک کا علم نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ انہیں ایک ہی وقت میں ٹھنڈا کھانا فراہم کیا جاتا ہے، جس میں شوربہ پانی کی طرح پتلا، پانی آلودہ اور کھانے کی مقدار بھوک مٹانے کے لیے ناکافی ہوتی ہے۔

بیان میں مزید انکشاف کیا گیا کہ اسیرات کو روزانہ تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں پھلوں سے محرومی، سڑی ہوئی سبزیاں، محض تین چمچ چاول، ضرورت سے زیادہ ابلا ہوا ایک انڈا اور پورے دن کے لیے صرف چھ روٹیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ اس پر کسی بھی قسم کے اعتراض کی صورت میں انہیں کھانا بند کرنے جیسی سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔

میڈیا آفس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جیل میں مناسب طبی دیکھ بھال کا نام و نشان نہیں ہے، خاص طور پر دائمی امراض میں مبتلا اسیرات کو دانستہ طبی غفلت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور تمام امراض کے لیے ایک ہی دوا دی جاتی ہے، جو غاصب صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کے حوصلے توڑنے کی ایک اور سفاکانہ مثال ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan