رفح – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) رفح بری کراسنگ پر مسافروں کی آمد و رفت کی فیلڈ مانیٹرنگ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ مسافروں کی تعداد میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ صورتحال قابض اسرائیل اور اس کی ملیشیاؤں کی جانب سے جاری مسلسل خلاف ورزیوں، سکیورٹی رکاوٹوں اور من مانے جابرانہ اقدامات کا نتیجہ ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
گورنمنٹ میڈیا آفس سے جاری کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پیر دوفروری 2026ء سے پیر 9 فروری تک کی مدت کے دوران صرف 225 مسافروں نے کراسنگ عبور کی، جن میں سے 172 افراد پہنچنے والے تھے جبکہ 26 افراد کو جبری طور پر واپس بھیج دیا گیا۔ یہ اعداد و شمار قطاع غزہ کے باسیوں کے لیے نقل و حمل کے واحد راستے کی انتہائی ابتر صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق مذکورہ مدت کے دوران آنے اور جانے والے مسافروں کی مجموعی تعداد محض 397 رہی، جبکہ توقع تھی کہ تقریباً 1600 مسافر اس راستے کو استعمال کریں گے۔ یوں مسافروں کی شرح 25 فیصد سے بھی کم رہی۔ انسانی حقوق کے ماہرین اس کی بنیادی وجہ قابض اسرائیل کی مسلسل مداخلت اور سکیورٹی مداخلتوں کو قرار دیتے ہیں جو کراسنگ پر کام کے نظم و ضبط میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے قابض اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کراسنگ کو اجتماعی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ سفر میں رکاوٹیں ڈال کر، بلا جواز روک تھام اور جبری واپسی کے ذریعے ایک ایسی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت حاصل نقل و حمل کی آزادی کے حق پر براہِ راست حملہ ہے۔
فیلڈ رپورٹس بتاتی ہیں کہ قابض اسرائیل سے وابستہ ملیشیائیں کراسنگ کی طرف جانے والے راستوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال کر اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ مسافروں کو حراست میں لینا اور انہیں قابض اسرائیل کے حوالے کرنا ایک ایسا غیر مستحکم سکیورٹی ماحول پیدا کر رہا ہے جس کا براہِ راست اثر مریضوں، طلبہ اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائشی اجازت نامے رکھنے والے افراد پر پڑ رہا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے رفح کراسنگ کو مستقل اور محفوظ طریقے سے کھولنے کے مطالبات جاری ہیں، مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ ان خلاف ورزیوں کا تسلسل اجتماعی سزا کی پالیسی کو تقویت دے رہا ہے۔ بین الاقوامی خاموشی اور فلسطینیوں کے سفر و نقل و حمل کے حق کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے غزہ پر مسلط تنہائی کی دیواریں مزید گہری ہوتی جا رہی ہیں۔
