Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

رفح کراسنگ کی مکمل بحالی میں تاخیر، غزہ کی انسانی صورتحال سنگین

رفح – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد اور بحالی کے ذمہ دار عالمی ادارے “انروا” نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ رفح کراسنگ کو اس کی مکمل گنجائش کے ساتھ فعال نہ کرنا غزہ کی پٹی کی انسانی صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھے گا۔ ادارے کے مطابق مطلوبہ رفتار سے بہتری نہ آنے کا براہِ راست مطلب قیمتی انسانی جانوں کا مسلسل ضیاع ہے۔

ادارے کے ترجمان جوناتھن فاولر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ طبی بنیادوں پر مریضوں کا انخلاء اب بھی انتہائی محدود ہے جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ میں داخل ہونے والی امداد کی مقدار ہولناک ضروریات کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔

فاولر نے اس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کیا کہ موجودہ حالات کے نتیجے میں غزہ کا نظامِ صحت مکمل طور پر تباہی اور انہدام کا شکار ہو چکا ہے۔

دوسری جانب غزہ میں انروا کے قائم مقام ڈائریکٹر امور سام روز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ادارے کے تخمینے کے مطابق کم از کم 20 ہزار افراد ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر ہنگامی طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔

سام روز نے متنبہ کیا کہ علاج کے لیے مریضوں کے غزہ سے باہر جانے میں ہونے والی تاخیر ان کی اموات کے امکانات میں اضافے اور ان کی صحت کی مزید ابتری کا باعث بن رہی ہے۔

انروا نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ رفح کراسنگ کو مستقل اور مکمل طور پر کھولنے کی ضمانت دی جائے اور مریضوں کی نقل و حرکت سمیت انسانی امداد کے بہاؤ کو آسان بنایا جائے۔ ادارے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

یاد رہے کہ سنہ 7 اکتوبر 2023 سے قابض اسرائیلی افواج امریکہ اور یورپ کی پشت پناہی کے ساتھ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔ اس وحشیانہ مہم میں قتلِ عام، بھوک و پیاس کو بطور ہتھیار استعمال کرنا، وسیع پیمانے پر تباہی، جبری ہجرت اور گرفتاریاں شامل ہیں۔ قابض اسرائیل تمام بین الاقوامی اپیلوں اور عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سفاکیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس منظم نسل کشی کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 42 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس کے علاوہ 11 ہزار سے زائد افراد مفقود ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ مسلط کردہ قحط نے کئی زندگیاں نگل لی ہیں اور غزہ کے تمام شہر اور علاقے غاصب دشمن کی سنگین بمباری سے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan