غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک حماس کی سیاسی بیورو کے سربراہ کے میڈیا مشیر طاہر النونو نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے درپے ہے اور فلسطینی عوام کے خلاف اجتماعی سزا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حماس رفح کراسنگ کو اس کی سابقہ حالت میں بحال کرنے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔
طاہر النونو نے صحافتی بیانات میں کہا کہ رفح کراسنگ کا کھلنا ایک اہم پیش رفت ہے جو فلسطینی عوام کے عزم اور استقامت کے نتیجے میں ممکن ہوئی اور اس پر آگے بڑھتے ہوئے غزہ میں انسانی تکالیف کم کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ غزہ کے امور کی انتظامی کمیٹی کے کام کو تیز کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں تاکہ قابض اسرائیل کے بہانوں کو ختم کیا جا سکے اور فلسطینی عوام کے لیے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں سونپنے کی حتمی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی تاہم کمیٹی کے ساتھ رابطہ مسلسل جاری ہے۔
طاہر النونو نے قابض اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ رفح میں پھنسے ہوئے مقاومین کا مسئلہ ایک ایسے حل کا متقاضی ہے جو ان کے محفوظ انخلا کو یقینی بنائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیل اس معاملے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں جس کے باعث رفح کی سرنگوں میں موجود افراد کی درست تعداد سے متعلق مصدقہ معلومات دستیاب نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ میں تقریباً پندرہ ہزار زخمی اور مریض ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر غزہ سے باہر علاج کی اشد ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے بھاری مشینری اور کیرافانز کی ترسیل اور تباہ شدہ گھروں کی مرمت ناگزیر ہے تاکہ فلسطینیوں کی زندگی کے حالات بہتر بنائے جا سکیں۔
طاہر النونو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قابض اسرائیل جنگ بندی تک پہنچنے کا خواہاں نہیں تھا بلکہ وہ اپنی داخلی سیاسی ضروریات کے تحت جنگ کو جاری رکھنا چاہتا تھا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ اپنی جارحیت جرائم اور نہتے شہریوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرے۔
