تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ سنہ 2024ء میں مئی کے مہینے سے بند پڑی رفح گزرگاہ کو اتوار کے روز سے جزوی طور پر کھول دیا جائے گا۔ تاہم اس کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ آنے اور جانے والے تمام مسافر براہِ راست قابض اسرائیل کے سکیورٹی معائنے سے گذریں گے۔ یاد رہے کہ یہ گزرگاہ جو غزہ کا بین الاقوامی دنیا سے رابطے کاواحد راستہ ہے قابض دشمن کے قبضے کی وجہ سے تقریباً 20 ماہ سے مکمل بند ہے
قابض حکومت کے کوآرڈینیٹر کے مطابق غزہ کی پٹی سے افراد کی روانگی مصر کے ساتھ مکمل کوآرڈیشن اور قابض اسرائیل کی سکیورٹی منظوری کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔
اعلامیے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ غزہ واپسی صرف ان افراد تک محدود ہوگی جو جنگ کے دورانیے میں پٹی سے باہر گئے تھے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ گزرگاہ کو مکمل طور پر نہیں کھولا جا رہا۔
عبرانی چینل 13 کے مطابق پٹی میں واپس آنے والوں کو رفح گزرگاہ سے گذرنے کے بعد ایک اسرائیلی فوجی پوائنٹ پر تلاشی کے عمل سے گذرنا پڑے گا۔
قابض اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ پٹی میں داخلہ مزید پیچیدہ ہوگا اور اسے براہِ راست اسرائیلی مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے گذارا جائے گا۔ ریڈیو کے مطابق “جو بھی شخص واپسی کے لیے گزرگاہ میں داخل ہوگا وہ بعد ازاں اسرائیلی چیک پوائنٹ پر پہنچے گا جہاں میٹل ڈیٹیکٹرز اور چہرہ پہچاننے والے (فیس ریکگنیشن) آلات کے ذریعے اس کی جانچ ہوگی، جس کے بعد اسے یلو لائن سے باہر حماس کے زیر انتظام علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔”
جہاں تک پٹی سے باہر سفر کرنے کا تعلق ہے تو ریڈیو نے بتایا کہ اس کے طریقہ کار کے تحت فلسطینیوں کو پہلے مصر میں سفر کی درخواستیں بھیجنا ہوں گی تاکہ ان کی منظوری حاصل کی جا سکے، جس کے بعد قاہرہ حکام ناموں کی فہرستیں قابض اسرائیلی سکیورٹی اداروں کو ارسال کریں گے۔
ریڈیو نے مزید کہا کہ پٹی سے باہر جانے والے مسافروں کا براہِ راست اسرائیلی سکیورٹی معائنہ تو نہیں ہوگا لیکن یورپی یونین کا مشن اور اتھارٹی کے ملازمین گزرگاہ پر اس کی ذمہ داری سنبھالیں گے، جبکہ قابض اسرائیل دور بیٹھ کر اس پورے عمل کی نگرانی کرے گا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی سکیورٹی حکام کسی بھی مسافر کی شناخت پر اعتراض کی صورت میں مصری جانب جانے والی راہداری کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بند کرنے کا اختیار رکھیں گے۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیلی افواج نےسات مئی سنہ 2024ء کو پٹی کے جنوبی شہر رفح پر قبضے کے بعد اس گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔
غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق گزرگاہ کی بندش کے باعث ایک ہزار سے زائد مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ اس وقت بھی 20 ہزار سے زائد زخمیوں اور مریضوں کو علاج کے لیے فوری طور پر بیرونِ ملک سفر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ گزرگاہ کی بندش نے ان ہزاروں طلبہ کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیا ہے جنہوں نے غیر ملکی سکالر شپ حاصل کر رکھی تھی مگر وہ بروقت نہ پہنچ سکے۔
