رفح – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) عبرانی اخبار ہارٹز نے انکشاف کیا ہے کہ نام نہاد مجلس السلام اور غزہ کے لیے اس کے نمائندہ خصوصی نکولے ملادی نوف کا دفتر قابض اسرائیلی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے دوبارہ کھلوانے کے لیے پیش رفت کی جا سکے۔ اخبار نے پیر کے روز ایک نامعلوم سفارتی ذریعے کے حوالے سے یہ خبر نقل کی ہے۔
قابض اسرائیلی حکام نے ایران پر امریکہ کے ساتھ مل کر شروع کی گئی اپنی تازہ جارحیت کے تین دن بعد ہی سکیورٹی وجوہات کا بہانہ بنا کر غزہ کی پٹی کے ساتھ تمام گزرگاہیں بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
گذشتہ ہفتے کے آغاز میں امریکی دباؤ کے نتیجے میں قابض اسرائیلی حکام نے کرم ابو سالم کراسنگ کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا تھا تاکہ غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچائی جا سکے۔
اخبار کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی مندوب سٹیو وٹکوف کے سینئر مشیر اور مجلس السلام کے نمائندے آرییہ لائٹ اسٹون نے اس موضوع پر بحث کے لیے براہ راست قابض اسرائیلی حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو سے رجوع کیا۔
اس کے باوجود رفح کراسنگ سمیت دیگر گزرگاہیں بدستور بند ہیں، جبکہ رفح کراسنگ غزہ کے مکینوں کی آمد و رفت کا واحد اور بنیادی راستہ ہے۔ اخبار نے ایک سکیورٹی ذریعے کا قول نقل کیا ہے کہ اب تک سیاسی سطح سے کراسنگ دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں، اور زمینی حالات فی الحال اس کی اجازت نہیں دیتے۔
دوسری جانب غزہ میں شعبہ صحت کو شدید بحران کا سامنا ہے کیونکہ ادویات اور طبی سامان کی فراہمی مسلسل بند ہے۔ غزہ کی پٹی پر مسلط دو سالہ جنگ کے دوران قابض اسرائیل کی جانب سے طبی عملے کے قتل، گرفتاریوں اور بڑے ہسپتالوں کی وسیع پیمانے پر تباہی نے حالات کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔
بین الاقوامی اداروں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ غزہ کا طبی نظام مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جہاں زخمیوں اور مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ہنگامی طبی امداد کی شدید ضرورت کے باوجود یہ نظام اپنی خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
